شرجیل امام کی ضمانت منظور _ 20 مہینے بعد جیل سے ہوگی رہائی

نئی دہلی _ الہ آباد ہائی کورٹ نے ہفتہ کے روز جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم و سماجی جہدکار  شرجیل امام کی ضمانت منظور کردی ہے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران جنوری 2019 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دی گئی تقریر کے سلسلے میں ان کے خلاف درج کیا گیا تھا

انہیں گزشتہ برس 28 جنوری کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے بہار کے جہان آباد سے گرفتار کیا تھا

ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں مبینہ طور پر مظاہرین سے مخالف ملک بیان دیا تھا اور آسام سے ہندوستان سے الگ کرنے کی بات کہی تھی امام  کے خلاف  اتر پردیش کے علی گڑھ ضلع میں دفعہ 124A (غداری)، 153A (مذہب، نسل کی دشمنی کی بنیادوں کو فروغ دینا)، 153B (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے والے بیانات دینا) اور 505 (2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

 

آسام، منی پور اور اروناچل پردیش کی پولیس نے بھی مبینہ تبصروں کے لیے امام کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔ انھیں  آسام اور اروناچل پردیش کے مقدمات میں ضمانت مل گئی۔امام کے وکیل طالب مصطفی نے ان کی ضمانت پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی تقریر کی بنیاد پر شرجیل امام کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئیں۔