مرکزی کابینہ نے ارکان پارلیمنٹ کی لوکل ایریا ڈیولپمنٹ اسکیم (ایم پی لیڈ) کی بحالی اور اسے جاری رکھنے کو منظوری

نئی دہلی ( پی آئی بی ) وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں آج مرکزی کابینہ نے مالی سال 22-2021 کے بقیہ حصہ کے دوران اور مالی سال 26-2025 تک، جب 15ویں مالیاتی کمیشن کی میعاد ختم ہوگی، ممبران پارلیمنٹ کی لوکل ایریا ڈیولپمنٹ اسکیم (ایم پی لیڈ) کی بحالی اور اسے جاری رکھنے اپنی منظوری دے دی۔

اسکیم کی تفصیلات:

  • ایم پی لیڈ سنٹرل سیکٹر کی اسکیم ہے جس کی فنڈنگ مکمل طور پر حکومت ہند کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ممبران پارلیمنٹ کو ترقیاتی نوعیت کے کاموں کی تجویز فراہم کرنے کے قابل بنانا ہے، جس کے تحت خاص کر ان کے حلقہ انتخاب میں پینے کے پانی، ابتدائی تعلیم، صحت عامہ، صاف صفائی اور سڑک وغیرہ کے شعبوں میں مستحکم کمیونٹی کے اثاثوں کی تعمیر پر زور دینا ہے۔
  • ہر رکن پارلیمنٹ اپنے حلقہ انتخاب کے لیے سالانہ 5 کروڑ روپے کے ایم پی لیڈ فنڈ کے مستحق ہیں، جسے ایم پی لیڈ کے رہنما خطوط کو پورا کرنے کی شرط پر 2.5 کروڑ روپے کی دو قسطوں میں جاری کیا جاتا ہے۔
  • معاشرہ میں صحت اور کووڈ 19 کے برے اثرات کا انتظام کرنے کے لیے، کابینہ نے 6 اپریل، 2020 کو منعقد اپنی میٹنگ میں مالی سال 21-2021 اور 22-2021 کے دوران ایم پی لیڈ  کو بروئے کار نہ لانے اور اس فنڈ کو کووڈ 19 وبائی مرض کے اثرات کا انتظام کرنے کے لیے وزارت خزانہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
  • اب چونکہ ملک اقتصادی بازیافت کی راہ پر گامزن ہے اور یہ اسکیم  پائیدار کمیونٹی کے اثاثے کی تعمیر کے لیے مفید بنی ہوئی، معاشرہ کی مقامی طور پر ضروری سمجھی جانے والی امیدوں کو پورا کرنے میں، ہنرمندی کی تعمیر میں اور ملک بھر میں نوکریاں پیدا کرنے میں، اسی لیے یہ آتم نربھر بھارت کے مقصد کو حاصل کرنے میں مدد گار ہے۔ اسی لیے، مرکزی کابینہ نے اب مالی سال 22-2021 کے باقی حصے کے دوران ممبران پارلیمنٹ کی لوکل ایریا ڈیولپمنٹ اسکیم (ایم پی لیڈ) کو بحال کرنے اور  ایم پی لیڈ کو 26-2025 تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جب 15ویں مالیاتی کمیشن کی میعاد ختم ہو جائے گی۔

وزارت مالی سال 22-2021 کی بقیہ مدت کے لیے ایم پی لیڈ 2 کروڑ روپے فی رکن پارلیمنٹ  کے حساب سے ایک قسط میں اور  مالی سال 23-2022 سے 26-2025 تک کی مدت کے دوران 5.00 کروڑ روپے سالانہ فی رکن پارلیمنٹ کے حساب سے ہر ایک کے لیے 2.5 کروڑ روپے کی قسط  جاری کرے گی۔ جب سے یہ اسکیم شروع ہوئی ہے تب سے اب تک 54171.09 کروڑ کے مالی اخراجات سے کل 1986206 کام/پروجیکٹ مکمل کیے جا چکے ہیں۔

مالی اخراجات:

مالی سال 22-2021 کے بقیہ حصے اور 26-2025 تک ایم پی لیڈ کی بحالی اور اسے جاری رکھنے پر کل 17417.00 کروڑ روپے خرچ ہوں گے جن کی جدول کے حساب سے تفصیل نیچے دی گئی ہے:

 

مالی سال

2021-22

2022-23

2023-24

2024-25

2025-26

کل رقم

مالی اخراجات (کروڑ روپے میں)

1583.5

3965.00

3958.50

3955.00

3955.0

17417.00

نفاذ کی حکمت عملی اور اہداف:

  • ایم پی لیڈ کی نگرانی رہنما خطوط کے ایک مجموعہ کے ذریعے کی جاتی ہے، جس پر وقتاً فوقتاً نظرثانی کی جاتی ہے۔
  • ایم پی لیڈ کے تحت کارروائی تب شروع ہوتی ہے جب رکن پارلیمنٹ نوڈل ڈسٹرکٹ اتھارٹی کو کاموں کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ متعلقہ نوڈل ڈسٹرکٹ رکن پارلیمنٹ کے ذریعے تجویز کردہ اہل کاموں کے نفاذ اور اسکیم کے تحت انجام دیے گئے انفرادی کاموں اور ان پر خرچ کیے گئے پیسے کی تفصیلات درج کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔

اثرات:

  • ایم پی لیڈ کو بحال اور جاری کرنے سے معاشرہ کے ان ترقیاتی پروجیکٹوں / کاموں کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملے گی جنہیں ایم پی لیڈ کے تحت فنڈ کی کمی کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔
  • یہ مقامی برادری
    • کی امیدوں اور ترقیاتی تقاضوں کو پورا کرنے اور پائیدار اثاثوں کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کر دے گا، جو کہ ایم پی لیڈ کا بنیادی مقصد ہے۔
    • اس سے مقامی معیشت کے احیا میں بھی مدد ملے گی۔

    پس منظر:

    • ایم پی لیڈ سنٹرل سیکٹر کی اسکیم ہے جس کی فنڈنگ مکمل طور پر حکومت ہند کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ممبران پارلیمنٹ کو ترقیاتی نوعیت کے کاموں کی تجویز فراہم کرنے کے قابل بنانا ہے، جس کے تحت خاص کر ان کے حلقہ انتخاب میں پینے کے پانی، ابتدائی تعلیم، صحت عامہ، صاف صفائی اور سڑک وغیرہ کے شعبوں میں مستحکم کمیونٹی کے اثاثوں کی تعمیر پر زور دینا ہے۔
    • ہر رکن پارلیمنٹ اپنے حلقہ انتخاب کے لیے سالانہ 5 کروڑ روپے کے ایم پی لیڈ فنڈ کے مستحق ہیں، جسے ایم پی لیڈ کے رہنما خطوط کو پورا کرنے کی شرط پر 2.5 کروڑ روپے کی دو قسطوں میں جاری کیا جاتا ہے۔
    • وزارت نے 2021 میں ملک بھر کے 216 ضلعوں میں ایم پی لیڈ کے تحت کیے گئے کاموں کا فریق ثالث سے تجزیہ کروایا تھا۔ اس تجزیاتی رپورٹ میں ایم پی لیڈ کو جاری رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔