بیرون ملک شہریوں کو پناہ دینے پر کیا پابندی ہے ؟ تبلیغی جماعت کے اجتماع کے کیس میں عدالت کا پولیس سے سوال

نئی دہلی _ دہلی ہائی کورٹ نے  پولیس سے اس بات کی وضاحت طلب کی کہ  کیا کسی ہندوستانی شہری کو کسی ایسے غیر ملکی کو اپنی رہائش گاہ پر پناہ دینے  پر پابندی ہے جو گزشتہ سال جام نگر میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کے لئے  کارکرد پاسپورٹ اور درست ویزا پر ہندوستان آئے تھے

 

گزشتہ سال کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے دوران تبلیغی جماعت کے اجتماع کے  بیرونی ممالک کے شرکاء کو بعض ہندوستانی شہریوں نے اپنے گھروں یا مساجد میں پناہ دی تھی جس پر پولیس نے ان افراد  کے خلاف درج ایف آئی آر درج کی تھی اس ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لئے ہندوستانی شہریوں کی طرف سے دائر درخواستوں  کی سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے جسٹس مکتا گپتا نے یہ ریمارکس کئے۔ معزز جج نے پولیس کے رویہ پر شدید برہمی ظاہر کی۔

 

ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواستیں ان افراد کی طرف سے داخل کی گئیں جنہوں نے ان غیر ملکیوں کو پناہ دی تھی جو  کوویڈ 19 کے پھیلنے اور  لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے ملک کا  سفر نہیں کر سکے تھے، یہ درخواستیں دیگر افراد کی طرف سے بھی داخل کی گئی تھی جن میں اجتماع کی انتظامی کمیٹی کے ارکان یا مختلف مساجد کے نگراں، جن پر چاندنی محل پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آنے والی مساجد میں غیر ملکی شہریوں کو رہائش کی سہولیات فراہم کرنے کا الزام ہے۔

 

درخواست گزاروں کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ تفتیشی ایجنسی نے ایف آئی آر یا چارج شیٹ میں ان مہمانوں کے ان کے رہائشی مقامات میں داخل ہونے کی تاریخ نہیں بتائی ہے۔وکیل نے بتایا کہ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے نظام الدین مرکز  کے منتظمین کے خلاف تعزیرات ہند، وبائی امراض ایکٹ وغیرہ کی بعض دفعات کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں ایف آئی آر بھی درج کیا ہے