نیشنل

دہلی پولیس نے بلی بائی ایپ معاملے میں اہم ملزم کو آسام سے کرلیا گرفتار

 

 

مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کرنے والے کیس میں دہلی پولیس کی جانب سے ایک ملزم کی گرفتاری _ بلی بائی ایپ معاملے میں ممبئی پولیس نے تین دن میں تین ملزمان کو گرفتار کرلیا 

 

نئی دہلی _ 6 جنوری ( اردو لیکس) دہلی پولیس نے مسلم خواتین کو آن لائن نیلامی کرنے کے لیے بلی بائی ایپ معاملے میں ایک اہم ملزم کو آسام سے گرفتار کیا ہے جو اس ایپ کو تیار کیا ہے دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے آسام سے 22 سالہ نیرج بھشنوئی کو گرفتار کیا ہے جو انجینئرنگ سال دوم کا طالب علم ہے جس نے اس ایپ کو گٹ ہب پر تیار کیا تھا بہت جلد اسے دہلی منتقل کیا جائے گا ۔

دہلی پولیس کی جانب سے بلی بائی ایپ معاملے میں یہ پہلی گرفتاری ہے اس سے قبل ممبئی پولیس نے اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار کیا تھا

ممبئی پولیس نے اب تک تین نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے جن میں پیر کو سب سے پہلے بنگلور سے 21 سالہ وشال جھا کو گرفتار کیا تھا جو پیشہ سے انجینئر ہے منگل کے روز ممبئی پولیس نے اتراکھنڈ سے 18 سالہ شیوتا سنگھ کو گرفتار کیا جو اس ایپ تیار کرنے والی اہم ملزمہ بتائی گئی ہے جب کہ پولیس نے  چہارشنبہ کو تیسرے ملزم کے طور پر میانک راوت کو گرفتار کیا  اس کا تعلق بھی اتراکھنڈ سے ہے

 

ممبئی پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے  صحافیوں کو بتایا تھا کہ ہم نے ‘بلی بائی’ ایپ کیس میں بنگلورو سے کمار وشال جھا اور 18 سالہ شویتا سنگھ کو اتراکھنڈ سے گرفتار کیا ہے۔ آج ایک اور ملزم میانک راوت کو اتراکھنڈ سے گرفتار کیا ہے انہوں نے کہا کہ پولیس کی تحقیقات میں پتہ چلا کہ اس ایپ کے 6 فالورس ہیں ان کی گرفتاری بھی ممکن ہے اس کیس میں مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔

 

بتایا گیا ہے کہ وشال کمار  سے تفتیش کرنے کے بعد مرکزی ملزم شیوتا سنگھ کو اترا کھنڈ سے گرفتار کیا گیا تھا دونوں ملزم پہلے  سے ایک دوسرے کے رابطے میں تھے، اصل ملزم شیوتا تین جعلی اکاؤنٹس کو ہینڈل کر رہی تھی اور نفرت انگیز پوسٹ کرتی تھی،  شریک ملزم وشال کمار نے سکھ برادری کے نام سے جعلی اکاؤنٹ 21 دسمبر  کو بنایا تھا، وہ سکھوں کے ناموں سے مشابہت کے لیے اکاؤنٹ کا نام بدلا تھا تاکہ سکھ برادری سے مسلمان نفرت کرنا شروع کر دے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button