نیشنل

فوت شدہ سرکاری ملازم/پنشنر کے دیویانگ بچوں کو فیملی پنشن کی رقم میں بڑا اضافہ ملے گا

 نئی دہلی _ مرکزی وزیر پنشن ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  کہا کہ فوت شدہ سرکاری ملازم/پینشن یافتگان کے معذور بچے کو فیملی پنشن کی مشاہرات میں بڑا اضافہ ملے گا اور اس سلسلے میں پنشن اور پینشن یافتگان کی بہبودکے محکمہ نےاس سلسلے میں ہدایات جاری کی ہیں۔

اس اہم فیصلے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ ایسے بچوں کی ناموس اور دیکھ بھال سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی کی خصوصی ہدایت کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا ، یہ فیصلہ، ایسے بچ جانے والے دیوانگ یا معذور وں کی زندگی میں آسانی اور بہتر معاشی حالات کا علمبردار ہے جنہیں زیادہ طبی دیکھ بھال اور مالی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ  سی سی ایس (پنشن) ضابطوں 1972 کے تحت  خاندانی پنشن کی گرانٹ کے لیے فوت شدہ سرکاری ملازم/ پنشن یافتگان کے بچے/ بہن بھائیوں کی اہلیت کے لیے  آمدنی کے معیار کو سہل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کا خیال ہے کہ  خاندانی پنشن کے لیے اہلیت کا معیار ، جو خاندان کے دیگر ا فراد کے معاملے میں قابل اطلاق ہوتا ہے، معذور ہونے والے بچے/ بہن بھائی کے معاملے میں لاگو نہیں ہوسکتا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  اس کے مطابق  حکومت نے معذوری کے شکار بچے/ بہن بھائی کے حوالے سے خاندانی پنشن کے لیے اہلیت کے معیار کا جائزہ لیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ ایسے بچوں / بہن بھائیوں کے لیے خاندانی پنشن کی اہلیت کے لیے ان کے معاملے میں مستحق فیملی پنشن کی رقم کے ساتھ معیارات کو پورا کیا جائے۔

پنشن اور پنشن یافتگان کی بہبود کے محکمے نے کہا ہے کہ  وزیر موصوف نے شکایات/ احکامات جاری کئے ہیں کہ ایک فوت شدہ سرکاری ملازم / پنشن یافتگان کا بچہ/ بہن بھائی، جو ذہنی یا جسمانی معذوری کا شکار ہے، زندگی بھر کے لیے خاندانی پنشن کا اہل ہوگا بشرطیکہ اس کی مجموعی آمدنی خاندانی پنشن کے علاوہ  حقدار خاندانی پنشن سے کم ہو یعنی فوت شدہ سرکاری ملازم/ پنشن یافتگان کی طرف سے اخذ کردہ آخری تنخواہ کا عام شرح یعنی 30 فیصد سے کم ہو اور اس پر  مہنگائی ریلیف قابل قبول ہو۔

سی سی ایس (پنشن) ضابطے 1972، کے ضابطہ 54 (6) کے مطابق ایک فوت شدہ سرکاری ملازم یا پنشن پانے والا کا بچہ / بہن بھائی جو ذہنی یا جسمانی معذوری کا شکار ہے، وہ زندگی بھر کے لیے خاندانی پنشن کا اہل ہے کیونکہ یہ ایک معذوری ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی روزی کمانے سے قاصر ہے۔ فی الوقت خاندان کا کوئی رکن،جس میں معذور بچہ / بہن بھائی بھی شامل ہے، اپنی روزی کما رہا ہے، اور اگر اس کی آمدنی  فیملی پنشن کے علاوہ دیگر ذرائع سے  کم از کم فیملی پنشن یعنی 9000 روپئے کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو اس کا مہنگائی ریلیف بھی قابل قبول ہوگی۔

ذہنی یا جسمانی معذوری کے شکار ایک بچے/ بھائی بہن کی صورت میں اگر آمدنی کے معیار کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے خاندانی پنشن کی وصولی میں شامل نہیں ہے اور اگر وہ نئے آمدنی کے معیار کو پورا کرتا/ کرتی ہے تو فیملی پنشن اسے دی جائے گی۔ اسے سرکاری ملازم یا پنشن پانے والے   یا خاندانی سابقہ پنشن پانے والے کی موت کے وقت خاندانی پنشن کی شرائط کو بھی پورا کرتے ہیں، فیملی پنشن دی جائے گی۔ ایسے معاملات میں مالیاتی فوائد متوقع طور پر جمع رہیں گے اور سرکاری ملازم/ پنشن پانے والے/ سابقہ خاندانی پنشن پانے والے کی موت کی تاریخ سے لے کر اس مدت تک  کوئی بقایاجات قابل قبول نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button