نیشنل

ووٹر آئی ڈی کو آدھار کارڈ سے جوڑنے کا فیصلہ _ سال میں چار مرتبہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کی سہولت

ووٹر آئی ڈی کو آدھار کارڈ سے جوڑنے کا فیصلہ _ سال میں چار مرتبہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کی سہولت 

نئی دہلی _ مرکزی حکومت نے ووٹر آئی ڈی کو آدھار کارڈ سے جوڑنے کے عمل کو  ہری جھنڈی دے دی ہے۔ 2022 کے انتخابات سے قبل،الیکشن کمیشن کی  سفارشات کی بنیاد پر انتخابی عمل میں اصلاحات لانے کے اقدامات شروع کئے گئے ہیں اسی کے ایک حصے کے طور پر، مرکزی حکومت نے  کہا کہ وہ کئی اہم اصلاحات لا رہی ہے، جن میں آدھار کو ووٹر آئی ڈی کے ساتھ جوڑنا بھی شامل ہے مرکزی کابینہ نے  چار انتخابی اصلاحات کو منظوری دی ہے۔ اس سے متعلق بل پارلیمنٹ  میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

 

آدھار کارڈ کو ووٹر آئی ڈی یا انتخابی کارڈ کے ساتھ لنک کرنے کی اجازت پین آدھار لنکنگ کی طرح ہے۔ تاہم، یہ صرف رضاکارانہ بنیادوں پر ہوگا۔

 

اگلے سال 1 جنوری سے، 18 سال سے زیادہ عمر کے بالغوں کو چار مختلف تواریخ کے ساتھ سال میں چار بار ووٹ لسٹ میں نام  رجسٹر کرنے کا موقع ملے گا۔  اب تک سال میں صرف ایک بار ووٹ لسٹ میں نام شامل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے

 

اب تک میاں بیوی کو  اس علاقے میں ووٹر کے طور پر نام رجسٹر کر سکتے ہیں جہاں شوہر سرکاری ملازم کی حیثیت سے سروس ووٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔ تاہم اب سے خواتین سرکاری ملازمین کے شوہر کو بھی اس علاقے میں سروس ووٹر کے طور پر رجسٹر کرنے کی اجازت ہوگی جہاں بیوی کام کرتی ہے۔

 

الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد کے لیے کسی بھی جگہ کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے تمام ضروری اختیارات بھی دیے۔ الیکشن کے دوران اسکولوں اور دیگر اہم اداروں کو تحویل میں لینے اب تک کچھ اعتراضات سامنے آرہے ہیں تاہم مرکزی کابینہ نے  ان سب کو منظوری دے دی ہے ۔ حکومت ان  انتخابی اصلاحات کو  بل کی شکل میں  پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے والی ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button