نیشنل

‘بلی بائی’ایپ بنانے والوں کے خلاف حکومت سخت کارروائی کرے _ ویمن انڈیا موؤمنٹ کی جنرل سکریٹری یاسمین اسلام کا مطالبہ

نئی  دہلی۔(پریس ریلیز)۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ (WIM) نے صدر جمہوریہ ہند سے اپیل کی ہے کہ اگر پولیس بلی بائی ایپ /سلی ڈیلز ایپ کے بنانے والوں کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہے تو خود صدر ہند ان کے خلاف نوٹس لیں۔ اس ضمن میں ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی جنرل سکریٹری یاسمین اسلام نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ ان غنڈوں نے ایپ کے ذریعے مسلم خواتین کو نشانہ بنایا ہے جس نے ہمارے ملک اور ثقافت کو شرمسار کردیا ہے۔

 

انٹرنیٹ ٹرولز نے ‘بلی بائی’نامی پلیٹ فارم کے ذریعے انٹر نیٹ پر مسلم خواتین کی توہین آمیز تصاویر پوسٹ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں اس بار حیدر آباد کی معروف خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یاسمین اسلام نے مزید کہا ہے کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ وہ سماجی کارکن خواتین جو سچ کیلئے آواز اٹھاتی ہیں اور حکومت پر سوال اٹھاتی ہیں انہیں اس ایپ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ کیا یہ مسلم خواتین کے خلاف سوچی سمجھی سازش ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ صرف اس ایپ کو بلاک کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ اس ایپ کے بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا پڑے گا تاکہ اس قسم کا جرم دوبارہ دہرایا نہ جائے۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی جنرل سکریٹری یاسمین اسلام نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ”کانعرہ ایک مذاق بن جاتا ہے جب ملک میں بیٹیوں کے خلاف ایسا گھناؤنا جرم کیا جاتا ہے اور وہ خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ بلی بائی جیسے ایپ بنانے والوں کا خیال ہے کہ سماجی کارکن مسلم خواتین کے کردار کو اس طرح بدنام کرنے سے خواتین خوف کے مارے خاموش رہیں گی اور کھبی آواز نہیں اٹھائیں گی۔

 

انہوں نے نشاندہی کی کہ ‘سلی ڈیلز’نامی ایک ناگوار ایپ پچھلے سال اسی GitHubپلیٹ فارم پر ڈالی گئی تھی۔ تب کئی سماجی کارکن خواتین نے اس کے خلاف شکایات درج کروائی تھی لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی جس کی وجہ سے آج بلی ڈیلزجیسے واقعات دوبارہ رونما ہورہے ہیں۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی جنرل سکریٹری یاسمین اسلام نے آخر میں کہا ہے کہ بلی بائی ایپ بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے کیونکہ یہ ایک جمہوریت کے طور پر ملک کو شرمندہ کرتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button