نیشنل

مورخین نے مغل حکمرانوں کی تاریخ لکھنے پر ہی زیادہ توجہ دی: وزیر داخلہ امیت شاہ

نئی دہلی _ 10 جون ( اردولیکس) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ ہندوستان میں زیادہ تر مورخین مغل حکمرانوں کی تاریخ لکھنے کو ترجیح دئے ہیں۔ اور مورخین نے پانڈوں، چولوں، موریوں، گپتوں کے ساتھ ساتھ اہوم جیسی بہت سی شاندار حکمرانوں کو نظر انداز کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت  دنیا کے سامنے اپنی بالادستی کا دعویٰ کر رہا ہے۔یہاں کی ہزاروں سال کی تہذیب،  زبان اور مذہب کے تحفظ کے لئے کئے اقدامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔امیت شاہ نے آج ایک  کتاب بعنوان ‘مہارانہ: دی ملینیل دھرم وار’ کے اجراء کے بعد یہ بات کہی ۔

امیت شاہ نے کہا کہ ” میں تاریخ دانوں سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ کئی بادشاہوں نے ہم پر حکومت کی۔ تاہم، مورخین نے مغلیہ سلطنت پر بڑے پیمانے پر لکھا ہے۔ پانڈیان سلطنت تقریباً 800 سال تک قائم رہی۔ آسام پر 650 سال تک اہوم بادشاہوں نے حکومت کی۔ انہوں نے اورنگ زیب اور بکیار خارجی جیسے حکمرانوں کو شکست دی اور آسام کو ایک آزاد ریاست بنا دیا۔

پلواو 600 سال تک اور چولا کی حکومت 600 سال تک قائم رہی۔ موریوں نے افغانستان سے سری لنکا تک 550 سال حکومت کی۔ شاتاواہانہ نے پانچ سو سال حکومت کی۔ گپتا نے 400 سال حکومت کی اور  ایک متحدہ ہندوستان کی توقع میں پورے ملک پر حکومت کی۔

لیکن، ان پر کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ مرکزی وزیر امیت شاہ نے کہا کہ ان حکمرانوں کے بارے میں کتابیں لکھنی چاہئیں، اگر دستیاب ہو جائیں تو حقائق سامنے آئیں گے۔ امیت شاہ نے کہا کہ اس کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

تبصروں کو ایک طرف رکھ کر ایک ٹھوس تاریخ عوام کے سامنے لانی ہوگی۔ جھوٹا پروپیگنڈہ تب ہی ختم ہو سکتا ہے جب آپ اس کے لیے محنت کریں۔ اس لیے ہمیں اپنی کوششوں کو تیز کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اب ہم خود مختار ہیں۔ ہم اپنی تاریخ خود لکھ سکتے ہیں۔ ہمیں حقائق لکھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، امیت شاہ  نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو کتابوں کی بنیاد پر تاریخ کی وضاحت نہیں کرنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button