نیشنل

اگر میں شیوسینا کی قیادت کرنے کا اہل نہیں ہوں تو چیف منسٹر اور شیوسینا کے صدر کا عہدہ چھوڑ دوں گا: ادھو ٹھاکرے

ممبئی _ 22 جون ( اردولیکس) مہاراشٹر کے چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے نے  کہا کہ اگر شیوسینا کے باغی ارکان اسمبلی ان کے سامنے آکر ان سے پوچھیں تو وہ استعفیٰ دینے  تیار ہیں انہوں نے کہا کہ اگر ان کی اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی سورت اور گوہاٹی جا کر کچھ کہتے ہیں تو یہ مناسب نہیں ہے، اگر انہیں لگتا ہے کہ انہیں (ادھو ٹھاکرے) کو چیف منسٹر نہیں ہونا چاہئے تو ان کے سامنے آکر کہیں، وہ استعفیٰ دے دیں گے۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اگر کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ارکان اسمبلی استعفیٰ دینے کو کہتے تو انہیں اتنا نقصان نہ ہوتا، لیکن جس کلہاڑی سے وہ زخمی ہو رہے ہیں، وہ ان کے اپنے درخت کی لکڑی ہے۔

ٹھاکرے نے کہا کہ مجھ سے ہندوتوا پر سوال پوچھا جا رہا ہے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ مسٹر بال ٹھاکرے اور آج کی شیو سینا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے ماضی کی شیو سینا اور آج کی شیوسینا میں فرق ہو۔ شیوسینا اور ہندوتوا مختلف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سیاست میں کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں لیکن پھر بھی جو بھی ذمہ داری ملی وہ بخوبی نبھائی۔

چیف منسٹر نے کہا کہ صرف یہی نہیں، اگر باغی شیوسینک کہتے ہیں کہ وہ شیوسینا کی قیادت کرنے کے اہل نہیں ہیں، تو وہ چیف منسٹر کے ساتھ ساتھ شیو سینا کے صدر کا عہدہ بھی چھوڑ دیں گے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ شیو سینک ایسا نہ کریں۔‘‘

ٹھاکرے نے کہا کہ ہم نے 25-30 سال تک کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی مخالفت کی، لیکن یہ الزام یہ خیال غلط ہے کہ انہوں نے ہندوتوا چھوڑ دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایکناتھ شنڈے کو پوری عزت دی   ہے اور ابھی کچھ دن پہلے وہ آدتیہ ٹھاکرے کے ساتھ رام مندر کے درشن کرنے گئے تھے۔  ٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے گھر ماتوشری سے کام کریں گے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button