نیشنل

اتر پردیش بلڈوز کارروائی معاملہ میں یو پی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ سے جمعیۃ علماء ہند متفق نہیں

جمعیۃ علماء ہند جوابی حلف نامہ داخل کرے گی : گلزار اعظمی

 

نئی دہلی 24؍ جون ( پریس ریلیز) اترپردیش کے مختلف اضلاع میں مسلمانوں کی املاک کی بلڈوز کے ذریعہ غیر قانونی انہدامی کارروائی کے خلاف صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشدمدنی کی جانب سے داخل پٹیشن پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت سے یو پی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ کا جواب داخل کرنے کے لیئے وقت طلب کیا جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

سپریم کورٹ کی تعطیلاتی بینچ کے جسٹس سی ٹی روی کمار اور جسٹس سدھانشو دھولیہ کو ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے بتایا کہ یو پی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ پر انہیں اعتراض ہے لہذا وہ جوابی حلف نامہ داخل کرنا چاہتے ہیں جس پر سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے بھی اعتراض نہیں کیا ، سالیسٹرجنر ل کی جانب سے اعتراض نہیں کیئے جانے کے بعدعدالت نے سماعت اگلے (29 جون) بدھ تک ملتوی کردی اور جمعیۃ علماء ہند کو اجازت دی کہ وہ اس درمیان جوابی حلف نامہ داخل کرے۔

آج کی عدالتی کارروائی پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ یوپی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ سے اتفاق نہیں ، حلف نامہ میںچیف منسٹر یوپی یوگی ادتیہ ناتھ، اعلی پولس افسران و دیگر کی جانب سے عوامی بیانات میں احتجاج کرنے والوں کے متعلق کہا گیا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوںکو ایسا سبق سکھایا جائے گا جو دوسروں کے لئے مثال بنے گا،اس پر ایک لفظ تک نہیں کہا گیا ہے اور نہ ہی سہارنپور میں مسلمانوں کی املاک پر چلے بلڈوزر کا ذکر ہے۔

اسی طرح الہ آباد میں محمد جاوید کا جو مکان منہدم کیا گیا اس تعلق سے بھی حقیقت بیانی نہیں کی گئی ہے،مکان جب جاوید کی اہلیہ کے نام پر تھا تو انہدامی کارروائی سے ایک رات پہلے مکان پر نوٹس چسپا کرکے جانے کا کیا مطلب ؟ یوپی کے مختلف شہروں میں انہدامی کارروائی انجام دی گئی جبکہ حلف نامہ میں صرف تین جگہوں کا ہی ذکر کیا گیاجس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یو پی حکومت عدالت سے حقائق کو چھپانا چاہتی ہے ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ ہمارے وکلاء یو پی حکومت کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ کا جواب دیں گے اور عدالت کے روبرو ان سب حقائق کو پیش کیا جائے گا جسے جان بوجھ کر یوپی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں شامل نہیں کیاہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کی سماعت پر جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وکرم ناتھ کے روبرو جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر وکلاء نتیا راما کرشنن اور سی یو سنگھ پیش ہوئے تھے جنہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ کارروائی پر عدالت نے غیر قانونی بلڈوزر انہدامی کارروائی پر نوٹس جاری کیئے جانے کے بعد بھی یوپی میں غیر قانونی طریقے سے انہدامی کارروائی کی جارہی ہے جس پر روک لگانا ضروری ہے نیز ان افسران کے خلاف کارروائی کرنا بھی ضروری ہے جنہوںنے قانون کی دھجیاں اڑاکر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔سینئر وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ایمرجنسی کے دوران بھی ایسی بربریت نہیں ہوئی تھی جیسی آج یو پی میں کی جارہی ہے۔

سینئر وکلاء کے علاوہ عدالتی کارروائی میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکٹ آن ریکارڈ کبیر ڈکشت، ایڈوکیٹ صارم نوید، ایڈوکیٹ نظام الدین پاشا، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ کامران جاوید،ایڈوکیٹ اے سیتارمن، ایڈوکیٹ راگھو تنکھا ویگر نے حصہ لیا۔

صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل پٹیشن میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی بنے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button