نیشنل

مرکزی وزیر نارائن رانے کو مہاراشٹر پولیس نے گرفتار کرلیا _ چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کے خلاف ریمارکس مہنگا پڑا!

ممبی _ مہاراشٹر کی پولیس نے مرکزی وزیر نارائن رانے کو ریاست کے چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کے خلاف غیر مہذب ریمارکس کرنے پر گرفتار کیا ہے۔ ۔مرکزی وزیر نارائن رانے نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے کو ملک کو  آزادی  مل کر کے سال گزر چکے ہیں اس کا علم نہیں ہے ایسے شخص کے منہ پر طمانچہ رشید کرنا چاہیے  ان ریمارکس کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ۔اور آج مرکزی وزیر وہ رتناگری کے دورے پر تھے ا پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

 

دریں اثنا ، مرکزی وزیر رانے نے اس معاملے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے ۔ ان کے وکیل نے عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں رانے کے خلاف درج ایف آئی آر کو ختم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔انہوں نے درخواست کی کہ ان کے خلاف فوری کارروائی کیے بغیر عبوری احکامات جاری کیے جائیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ فوری سماعت کی جائے۔ تاہم عدالت نے درخواست پر سماعت کرنے سے اتفاق نہیں کیا۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ وہ پہلے رجسٹری ڈیپارٹمنٹ کو فوری سماعت کے لیے درخواست دیں اور پھر وہ اس کا جائزہ لیں گے۔

مرکزی وزیر نارائنا رانے نے جن آشیرواد یاترا کے دوران پیر کو ضلع رائے گڑھ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے 15 اگست کو ٹھاکرے کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک شرمناک بات ہے کہ چیف منسٹر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ آزادی کب ملی ۔ یوم آزادی کے موقع پر ریاست کے عوام خطاب کرتے ہوئے درمیان میں ٹھاکرے نے اپنے عملے سے پوچھا کہ آزادی مل کر کتنے سال ہوچکے ہیں۔مرکزی وزیر نارائن رانے نے کہا کہ اگر میں اس دن وہاں ہوتا تو ٹھاکرے کے نے  گال توڑ دیا ہوتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button