نیشنل

ایم ایل اے سرکاری ملازم نہیں ہوتا _ ان کی موت پر بیٹے کو سرکاری ملازمت نہیں دی جاسکتی : کیرالا ہائی کورٹ

 

ایم ایل اے سرکاری ملازم نہیں ہوتا _ ان کی موت پر بیٹے سرکاری ملازمت نہیں دی جاسکتی : کیرالا ہائی کورٹ 

نئی دہلی  ( اردو لیکس) _ کیرالا ہائی کورٹ نے ایک ایم ایل اے کی موت پر ان کے فرزند کو ریاستی حکومت کی جانب سے دی گئی سرکاری ملازمت کی تقرری کو منسوخ کردیا ہے اور اپنے فیصلے میں کہا کہ ایم ایل اے کا عہدہ کوئی سرکاری ملازمت نہیں ہے جن کی موت پر اس عہدہ کے بدلے ان کے فرزند کو سرکاری ملازمت دی جائے۔

بتایا جاتاہےکہ نائر نامی ایم ایل اے 2016 کے اسمبلی انتخابات میں چنگنور اسمبلی حلقہ سے منتخب ہونے کے بعد پہلی بار قانون ساز بنے اور  صحت کے مسائل کی وجہ سے 2018 میں انتقال کر گئے۔

چیف منسٹر کیرالا پی وجین نے ایک حیران کن فیصلہ کرتے ہوئے نائر کے بیٹے آر پرشانت کو آر اینڈ بی محکمہ  میں اسسٹنٹ انجینئر کے طور پر تقرری کے احکامات جاری کئے اور پرشانت اسسٹنٹ انجینئر بن گیا ۔چیف منسٹر کے اس فیصلے  کی وجہ سے کئی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔

 

اس فیصلے کے خلاف ایک ایڈوکیٹ درخواست گزار اشوک کمار نے  ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی اور جمعہ کو چیف جسٹس ایس منی کمار کی سربراہی میں  ڈویژن بنچ نے فیصلہ سنایا کہ کہ ایم ایل اے سرکاری ملازم نہیں ہے کیونکہ ان کی منتخب مدت ہوتی ہے۔ صرف پانچ سال، اور اس لیے ڈائنگ ان ہارنس موڈ کے تحت ان کے فرزند کو سرکاری ملازمت قابل اطلاق نہیں ہے اور تقرری منسوخ کر دی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button