نیشنل

تین لاکھ سے زائد وقف ریکارڈز کا کمپیوٹرائزیشن اور ڈیجیٹائزیشن کیا گیا: راجیہ سبھا میں مختار عباس نقوی

تین لاکھ سے زائد وقف ریکارڈز کا کمپیوٹرائزیشن اور ڈیجیٹائزیشن کیا گیا: راجیہ سبھا میں مختار عباس نقوی 

نئی دہلی _ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختار عباس نقوی نے آج راجیہ سبھا میں وقت بورڈ سے متعلق ایک تحریری جواب میں درج ذیل معلومات فراہم کیں:

وزارت نے قومی وقف بورڈ ترقیاتی اسکیم (کیو ڈبلیو بی ٹی ایس) نافذ کی ہے، جس کے تحت ریاستی وقف بورڈوں (ایس ڈبلیو بی) کو وقف ریکارڈز کے کمپیوٹرائزیشن اور ڈیجیٹائزیشن کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت وزارت، ریاستی وقف بورڈوں کو افرادی قوت جیسے کہ معاون پروگرامر، سروے اسسٹنٹ، اکاؤنٹینٹ اور قانونی معاون کی تعیناتی کرنے اور ریاستی وقف بورڈوں کی بہتر انتظامیہ کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کی سہولت، سنٹرلائزڈ کمپیوٹنگ فیسلیٹی (سی سی ایف) کے قیام اور انٹرپرائز رِسورس پلاننگ (ای آر پی) سالیوشن  کے لیے بھی مدد فراہم کرتی ہے۔

اس وزارت نے قومی وقف بورڈ ترقیاتی اسکیم (کیو ڈبلیو بی ٹی ایس) کے تحت، وقف جائیدادوں کے ریکارڈز کے کمپیوٹرائزیشن اور ڈیجیٹائزیشن  اور جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) پیمائش  کے لیے ’وامسی‘ (ڈبلیو اے ایم ایس آئی، یعنی ہندوستان کے وقف اثاثوں کے انتظام کا نظام) نام سے ایک آن لائن پورٹل تیار کیا ہے۔ قومی وقف بورڈ ترقیاتی اسکیم کے آغاز سے اب تک، وزارت کی جانب سے ریاستی بورڈوں کو 5660 لاکھ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ وزارت نے وقف جائیدادوں کی  جی آئی ایس/ جی پی ایس پیمائش  کے لیے معروف اداروں: آئی آئی ٹی روڑکی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)، علی گڑھ کو ذمہ داری سونپی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ریاستی وقف بورڈوں کے ذریعے استعمال کی گئی امدادی رقم کی تفصیلات سنٹرل وقف کونسل (سی ڈبلیو سی) کی ویب سائٹ: www.centralwaqfcouncil.gov.in پر دستیاب ہیں۔

اسکیم کے تحت متوقع پیش رفت درج کی گئی ہے۔ وقف جائیدادوں کے رجسٹریشن، ڈیجیٹائزیشن اور جی آئی ایس/ جی پی ایس پیمائش میں ہونے والی پیش رفت کی باضابطہ نگرانی کرنے کے لیے سنٹرل وقف کونسل، ریاستی وقف بورڈ کے ساتھ تجزیاتی میٹنگ کرتی رہتی ہے۔ ’وامسی‘ رجسٹریشن ماڈیول میں اب تک 775172 (سات لاکھ پچھتر ہزار ایک سو بہتر) منقولہ وقف جائیدادوں کے ریکارڈز کا رجسٹریشن ہو چکا ہے۔219230 (دو لاکھ انیس ہزار دو سو تیس) وقف جائیدادوں کی جی آئی ایس پیمائش بھی مکمل ہو چکی ہے۔ پہلی بار، وقف املاک کے 332344 (تین لاکھ بتیس ہزار تین سو چوالیس) ریکارڈز کو ڈیجیٹائز کیا گیا ہے۔ وقف جائیدادوں کے رجسٹریشن، ڈیجیٹائزیشن اور جی آئی ایس/جی پی ایس پیمائش  کا کام جنگی پیمانے پر چل رہا ہے۔  اسکیم کے تحت ہر ریاستی وقت بورڈ کے حساب سے ہونے والی پیش رفت www.wamsi.nic.in پر دستیاب ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button