نیشنل

16 سال مکمل کرنے والی مسلم لڑکیاں شادی کرسکتی ہیں _ پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ کا سنسنی خیز فیصلہ

نئی دہلی _ 20 جون ( اردولیکس) پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اپنے ایک سنسنی خیز فیصلہ میں کہا ہے کہ مسلمان لڑکیاں 16 سال کی عمر میں شادی کر سکتی ہیں۔ یہ فیصلہ سنگل جج جسٹس جسجیت سنگھ بیدی نے سنایا۔پٹھان کوٹ کے ایک مسلمان جوڑے نے عدالت سے   رجوع ہوئے تھے ۔ ایک 16 سالہ لڑکی اور 21 سالہ لڑکے کی شادی ہوئی تھی۔ تاہم ان کے گھر والوں کے اعتراض اور دھمکیوں کے بعد انہوں نے پنجاب کی عدالت سے اپنے خاندان کے افراد سے تحفظ کی درخواست کی۔ اس کیس کا  عدالت نے آج فیصلہ سنایا کہ 16 سالہ مسلم لڑکی  اپنی پسند کے مرد سے شادی کر سکتی ہے۔

اپنے فیصلے میں جسٹس جسجیت نے کہا کہ خاندان کے افراد  کی مرضی کے خلاف شادی پر  ان کے بنیادی حقوق سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اپنے فیصلے میں اسلامی شرعی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس بیدی نے کہا کہ مسلم لڑکیوں کی شادیاں مسلم پرسنل لاء کے دائرے میں آئیں گی۔

ایک مسلمان لڑکی کی عمر 16 سال ہے، وہ اس اصول کے مطابق شادی کر سکتی ہے، اور لڑکے کی عمر 21 سال ہے، جسے مسلم پرسنل لا نے بھی قبول کیا ہے۔ مسلم جوڑے کی شادی رواں سال 8 جون کو ہوئی تھی۔ لیکن ان کے بزرگوں نے اس کی مخالفت کی۔ اسی پس منظر میں جوڑے نے عدالت سے رجوع ہوئے تھے

متعلقہ خبریں

Back to top button