نیشنل

اومیکرون سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت: مانڈویہ

دہلی، 03 دسمبر (یو این آئی) مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبودمنسکھ مانڈویہ نے تمام ایجنسیوں اور ریاستی حکومتوں کو کووڈ-19 کی نئے قسم ’اومیکرون‘کے خطرات کے پیش نظر ہوائی اڈوں سمیت عوامی مقامات پر انفیکشن کی جانچ کرنے کے لیے باہمی تال میل سے کام کرنے کو کہا ہے لوک سبھا میں ضابطہ 193 کے تحت کووڈ۔19 سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بحث کا جواب دیتے ہوئے مسٹر مانڈویہ نے آج کہا کہ جنوبی افریقہ سے دبئی کے راستے ہندوستان آنے والے دو مسافر کووڈ سے متاثر پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلورو کے ہوائی اڈے پر پہنچنے والی 19 سالہ خاتون میں اومیکرون وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی، جب کہ ایک 67 سالہ شخص میں اومیکرون وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ بزرگ کے نمونے کی جینوم سیکوینسنگ رپورٹ آنے سے پہلے اس کی دوسری آر ٹی پی سی آر رپورٹ منفی آئی تھی اور وہ جنوبی افریقہ واپس چلا گیا اور اس کے ساتھ رابطے میں آنے والوں میں سے کوئی بھی متاثر نہیں پایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 22 نومبر کو بنگلور کے ایک شخص کے آر ٹی پی سی آرٹیسٹ میں انفیکشن کا پتہ چلا۔ ان کی جینوم سکونسنگ ٹسٹ 28 نومبر کو ہوئی، جس میں اومیکرون وریئنٹ کا پتہ چلا۔ خاندان کے تین افراد اور اس کے ساتھ رابطے میں آنے والے 160 افراد کی تحقیقات میں پانچ افراد متاثر پائے گئے جن کے نمونوں کا جینوم سیکوینسنگ ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف بین الاقوامی پروازوں سے ہندوستان آنے والے لوگوں کی بھی اسکریننگ کی جارہی ہے۔

مسٹر مانڈویہ نے کہا کہ اومیکرون خطرے والے زمرے کے ممالک کے 16 ہزار مسافروں کے آر ٹی پی سی آرٹیسٹ میں 18 لوگ کووڈ-19 سے متاثر پائے گئے ہیں اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے کتنے’اومیکرون‘ سے متاثر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ نے 25 نومبر کو وائرس کے پہلے کیس کا اعلان کیا تھا اور اسی دن وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی صحت سکریٹری نے تمام ریاستوں کے ساتھ میٹنگ کی اور اس کے بعد نظر ثانی شدہ ایڈوائزری جاری کی گئی۔

اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان کے ملک کے باشندوں کو کووڈ ویکسین کی بوسٹر خوراک اور 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو ٹیکہ لگانے کے سوال پر مسٹر مانڈویہ نے کہا کہ حکومت کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں، ایک سیاسی اور دوسرا سائنسی۔ مسٹر مانڈویہ نے کچھ پارٹیوں پر وبا کے دوران کورونا کے خلاف لڑائی کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ویکسین پر شکوک و شبہات پھیلانے کی کوشش کرکے ٹیکہ کاری مہم پر سوال اٹھایا اور وزیر اعظم پر الزام لگا کر کورونا کے خلاف لڑائی کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button