بگ بریکنگ _ وزیراعظم نریندر مودی نے متنازعہ زرعی قوانین واپس لینے کا کیا اعلان

نئی دہلی _ وزیراعظم نریندر مودی نے کسانوں کے احتجاج کے سامنے آخر گھٹنے ٹیک دئے۔آج صبح قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے آنے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں زرعی قوانین کو منسوخ کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مفادات کو ملحوظ رکھنے یہ فیصلہ کیا گیا ہے

نریندر مودی نے کہا کہ ہماری حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے، خاص طور پر چھوٹے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے، ملک کی زرعی دنیا کے مفاد میں، ملک کے مفاد میں، گاؤں کے غریبوں کے روشن مستقبل کے لیے، پورے خلوص کے ساتھ، کسانوں سے عقیدت کے لیے وہ یہ قانون ایک نیک نیتی سے لائے تھے۔ ہماری حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے، خاص طور پر چھوٹے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے، ملک کی زرعی دنیا کے مفاد میں، ملک کے مفاد میں، گاؤں کے غریبوں کے روشن مستقبل کے لیے، پورے خلوص کے ساتھ، لگن کے ساتھ۔ کسانوں کی طرف، یہ قانون ایک نیک نیتی سے لایا گیا تھا۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے گورونانک جینتی کے موقع پر عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ ڈیڑھ برسوں کے وقفے کے بعد کرتارپور صاحب گلیارہ ایک مرتبہ پھر کھول دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ ، ’’ عوامی خدمت کے لیے پانچ دہائیوں پر محیط اپنی زندگی میں، میں نے کاشتکاروں کی چنوتیوں کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے۔ اسی لیے، جب ملک نے مجھے 2014 میں وزیر اعظم کے طور پر خدمت کا موقع فراہم کیا،تو ہم نے زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کو سب سے زیادہ ترجیح دی۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے کاشتکاروں کی حالت بہتر بنانے کے لیے ہم نے بیج، بیمہ، بازار اور بچت، ان تمام امور پر چوطرفہ کام کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بہتر قسم کے بیج کے ساتھ ہی نیم کوٹیڈ یوریا، سوائل ہیلتھ کارڈ، چھڑکاؤ والی آبپاشی جیسی سہولتوں سے بھی کاشتکاروں کو مربوط کیا۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ کاشتکاروں کو ان کی محنت کے عوض پیداوار کی صحیح قیمت حاصل ہو، اس کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ملک نے اپنی دیہی منڈیوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ ہم نے نہ صرف کم از کم امدادی قیمت میں اضافہ کیا، بلکہ ریکارڈ تعداد میں سرکاری خریداری مراکز بھی قائم کیے۔ ہماری حکومت کے ذریعہ انجام دی گئی زرعی پیداوار کی خریداری نے گذشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ  دیے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ کاشتکاروں کی صورتحال کو بہتر بنانے کی اس زبردست مہم کے تحت ملک میں تین زرعی قوانین متعارف کرائے گئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کاشتکاروں خصوصاً چھوٹے کاشتکاروں کو مزید طاقت حاصل ہو، انہیں اپنی پیداوار کی صحیح قیمت اور پیداوار کی فروخت کے لیے زیادہ سے زیادہ متبادل حاصل ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے کاشتکار، زرعی ماہرین اور کاشتکار گروپ برسوں سے یہ مطالبہ مسلسل کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی کئی حکومتوں نے اس پر غور و فکر کیا تھا۔ اس مرتبہ بھی پارلیمنٹ میں تبادلہ خیات ہوئے ، غور و فکر ہوا اور یہ قوانین لائے گئے۔ ملک کے کونے کونے میں، متعدد کاشتکار گروپوں نے اس کا خیرمقدم کیا اور حمایت کی۔ وزیر اعظم نے اس قدم کی حمایت کرنے کے لیے تنظیموں، کاشتکاروں  اور لوگوں کے تئیں اظہار تشکر کیا۔

وزیر اعظم نے کہا، ’’ہماری حکومت، کاشتکاروں خصوصاً چھوٹے کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے، ملک کے زرعی شعبے کے مفاد میں، گاؤں کے ناداروں کے روشن مستقبل کے لیے، پوری دیانت داری سے، کاشتکاروں کے تئیں سچی لگن  کے احساس کے ساتھ، نیک نیتی سے یہ قانون لے کر آئی تھی۔‘‘انہوں نے کہا کہ، ’’اتنی مقدس بات، مکمل طورپر خالص، کاشتکاروں کے مفاد کی بات، ہم اپنی کوششوں کے باوجود چند کاشتکاروں کو سمجھا نہیں پائے۔ زرعی ماہرین اقتصادیات نے، سائنس دانوں نے، ترقی پسند کاشتکاروں نے بھی انہیں زرعی قوانین کی اہمیت کے بارے میں سمجھانے کی پوری کوشش کی۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا، ’’آج میں آپ کو، پورے ملک کو، یہ بتانے آیا ہوں کہ ہم نے تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہینے کے آخر میں شروع ہونے جارہے پارلیمانی اجلاس میں، ہم ان تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے لیے آئینی عمل کو مکمل کریں گے۔‘‘

مقدس گوروپرب کے جذبے کے تحت وزیر اعظم نے کہا کہ آج کا دن کسی پر الزام لگانے کا نہیں ، بلکہ کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کے لیے خود کو وقف کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے کے لیے ایک اہم پہل قدمی کا اعلان کیا۔ انہوں نے صفر بجٹ پر مبنی زراعت کو فروغ دینے، ملک کی بدلتی ضرورتوں کے مطابق فصل پیٹرن کو تبدیل کرنے اور ایم ایس پی کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ کمیٹی میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں ، کاشتکاروں، زرعی سائنسدانوں اور زرعی ماہرین اقتصادیات کے نمائندے شامل ہوں گے۔