ملک میں کورونا کی صورت حال پر چیف منسٹرس کے ساتھ وزیر اعظم کی ویڈیو کانفرنس

نئی دہلی،  13/جنوری 2022 ۔ پہلی میٹنگ ہے 2022 کی۔ سب سے پہلے تو آپ سبھی کو لوہڑی کی بہت بہت مبارک باد۔ مکر سنکرانتی، پونگل، بھوگلی بیہو، اتراین اور پوش پرو کی بھی پیشگی مبارک باد۔ 100 سال کی سب سے بڑی وبا سے بھارت کی لڑائی اب تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہے۔ محنت ہمارا واحد راستہ ہے اور جیت واحد متبادل۔ ہم 130 کروڑ بھارت کے لوگ اپنی کوششوں سے کورونا سے فتح یاب ہوکر ضرور نکلیں گے اور آپ سب سے جو باتیں میں نے سنی ہیں، اس میں بھی وہی اعتماد ظاہر ہورہا ہے۔ ابھی اومیکرون کی شکل میں جو نیا چیلنج آیا ہے، معاملات کی جو تعداد بڑھ رہی ہے، اس کے بارے میں صحت سکریٹری کی طرف سے تفصیل سے ہمیں جانکاری دی گئی ہے۔ امت شاہ جی نے بھی ابتدا میں کچھ باتیں ہمارے سامنے رکھی ہیں۔ آج متعدد وزرائے اعلیٰ برادری کی طرف سے بھی اور وہ بھی ہندوستان کے الگ الگ کونے کی کافی اہم باتیں ہم سب کے سامنے آئی ہیں۔

 

ساتھیو!

 

اومیکرون کے تعلق سے پہلےجو پس و پیش کی صورت حال تھا وہ اب رفتہ رفتہ واضح ہورہی ہے۔ پہلے جو ویرینٹ تھے، ان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تیزی سے اومیکرون ویرینٹ عوام الناس کو متاثر کررہا ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں ایک دن میں 14 لاکھ تک نئے معاملات سامنے آئے ہیں۔ بھارت میں ہمارے سائنس داں اور صحت ماہرین، ہر صورت حال اور اعداد و شمار کا مسلسل مطالعہ کررہے ہیں۔ یہ بات واضح ہے، ہمیں چوکس رہنا ہے، محتاط رہنا ہے لیکن گھبرانے کی صورت حال نہ آئے، اس کا بھی ہمیں دھیان رکھنا ہی ہوگا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ تہواروں کے اس موسم میں لوگوں کی اور انتظامیہ کی چوکسی کہیں سے بھی کم نہ ہو۔ پہلے مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے جس طرح پری-ایمپٹیو، پرو- ایکٹیو اور کولیکٹیو ایپروچ اپنائی ہے وہی اس وقت کی جیت کا منتر ہے۔ کورونا انفیکشن کو ہم جتنا محدود رکھ پائیں گے، پریشانی اتنی ہی کم ہوگی۔ ہمیں بیداری کے محاذ پر، سائنس پر مبنی معلومات کو تقویت دینے کے ساتھ ہی اپنے طبی بنیادی ڈھانچے کو، میڈیکل افرادی قوت کو بڑھاتے ہی رہنا پڑے گا۔

 

ساتھیو!

 

دنیا کے زیادہ تر ماہرین کا کہنا ہے کہ ویرینٹ چاہے کوئی بھی ہو، کورونا سے لڑنے کا سب سے مؤثر ہتھیار ویکسین ہی ہے۔ بھارت میں تیار ویکسین تو دنیا بھر میں اپنی عمدگی ثابت کررہی ہیں۔ یہ ہر بھارتی کے لئے فخر کی بات ہے کہ آج بھارت تقریباً 92 فیصد بالغ آبادی کو پہلی ڈوز دے چکا ہے۔ ملک میں دوسری ڈوز کی کوریج بھی 70 فیصد کے آس پاس پہنچ چکی ہے۔ اور ہماری ٹیکہ کاری مہم کو ایک سال پورا ہونے میں ابھی تین دن باقی ہیں۔ 10 دن کے اندر ہی بھارت اپنے تقریباً 3 کروڑ نوجوانوں کی ٹیکہ کاری کرچکا ہے۔ یہ بھارت کی اہلیت کو دکھاتا ہے، اس چیلنج سے نمٹنے کی ہماری تیاری کو دکھاتا ہے۔ آج ریاستوں کے پاس خاطرخواہ مقدار میں ٹیکے دستیاب ہیں۔ فرنٹ لائن ورکرس اور بزرگ شہریوں کو احتیاطی خوراک جتنی جلد لگے گی، اتنی ہی ہمارے حفظان صحت کے نظام کی اہلیت بڑھے گی۔ صد فیصد ٹیکہ کاری کے لئے ہر گھر دستک مہم کو ہمیں اور تیز کرنا ہے۔ میں آج اپنے ان صحت کارکنان، ہماری آشا بہنوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو موسم کی دشوار صورت حال کے درمیان ٹیکہ کاری مہم کو رفتار دینے میں مصروف ہیں۔

 

ساتھیو!

 

ٹیکہ کاری کے تعلق سے غلط فہمی پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہمیں ٹکنے نہیں دینا ہے۔ کئی بار ہمیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ ٹیکے کے باوجود انفیکشن ہورہا ہے تو کیا فائدہ؟ ماسک کو لے کر بھی ایسی افواہیں ہوتی ہیں کہ اس سے فائدہ نہیں ہوتا۔ ایسی افواہوں کا توڑ کرنے کی بہت ضرورت ہے۔

 

ساتھیو!

 

کورونا سے اس لڑائی میں ہمیں ایک اور بات کا بہت خیال رکھنا ہوگا۔ اب ہمارے پاس کورونا سے لڑائی کا دو سال کا تجربہ ہے، ملک گیر تیاری بھی ہے۔ عام لوگوں کی روزی روٹی، اقتصادی سرگرمیوں کو کم سے کم نقصان ہو، معیشت کی رفتار برقرار رہے، کوئی بھی حکمت عملی تیار کرنے وقت ہم ان باتوں کو ضرور پیش نظر رکھیں۔ یہ بہت ضروری ہے اور اس لئے لوکل کانٹینمنٹ پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا بہتر ہوگا۔ جہاں سے زیادہ معاملے آرہے ہیں، وہاں زیادہ سے زیادہ اور تیزی سے جانچ ہو، یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ہوم آئیسولیشن میں ہی زیادہ سے زیادہ علاج ہوسکے۔ اس کے لئے ہوم آئیسولیشن سے متعلق رہنما ہدایات کو، پروٹوکول پر عمل کرنا اور صورت حال کے مطابق بہتری لانا بھی بہت ضروری ہے۔ ہوم آئیسولیشن کے دوران ٹریکنگ اور ٹریٹمنٹ کا انتظام جتنا بہتر ہوگا، اتنی ہی اسپتالوں میں جانے کی ضرورت کم ہوگی۔ انفیکشن کا پتہ چلنے پر لوگ سب سے پہلے کنٹرول روم سے رابطہ کرتے ہیں، لہٰذا مناسب رسپانس اور پھر مریض کی مسلسل ٹریکنگ کانفیڈنس بڑھانے میں بہت مدد کرتی ہیں۔

 

مجھے خوشی ہے کہ کئی ریاستی حکومتیں اس سمت میں بہت اچھی طرح نئی نئی اختراعاتی کوششیں بھی کررہی ہیں، تجربات بھی کررہی ہیں۔ مرکزی حکومت نے ٹیلی میڈیسن کے لئے بھی کافی سہولتیں تیار کی ہیں۔ اس کا زیادہ سے زیادہ استعمال، کورونا سے متاثر مریضوں کی بہت مدد کرے گا۔ جہاں تک ضروری دواؤں اور ضروری بنیادی ڈھانچے کی بات ہے تو مرکزی حکومت ہر بار کی طرح ہر ریاست کے ساتھ کھڑی ہے۔ پانچ سے چھ مہینہ قبل 23 ہزار کروڑ روپئے کا جو خصوصی پیکیج دیا گیا تھا، اس کا بہتر استعمال کرتے ہوئے کئی ریاستوں نے صحت بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے۔ اس کے تحت ملک بھر میں میڈیکل کالج اور ضلع اسپتالوں  میں بچوں کے لئے 800 سے زیادہ خصوصی پیڈیاٹرک کیئر یونٹس منظور کئے گئے ہیں، تقریباً ڈیڑھ لاکھ نئے آکسیجن، آئی سی یو اور ایچ ڈی یو بیڈ تیار کئے جارہے ہیں، 5 ہزار سے زیادہ خصوصی ایمبولینس اور ساڑھے نو سو سے زیادہ لیکویڈ میڈیکل آکسیجن اسٹوریج ٹینک کی صلاحیت کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ایمرجنسی انفرااسٹرکچر کی کیپیسٹی بڑھانے کے لئے ایسی متعدد کوششیں ہوئی ہیں، لیکن ہمیں اس انفراسٹرکچر میں توسیع کرتے رہنا ہے۔

 

کورونا کو ہرانے کے لئے ہمیں اپنی تیاریوں کو کورونا کے ہر ویرینٹ سے آگے رکھنا ہوگا۔ اومیکرون سے نمٹنے کے ساتھ ہی ہمیں آنے والے کسی اور ممکنہ ویرینٹ کے لئے بھی ابھی سے تیاری شروع کردینی ہے۔ مجھے یقین ہے، ہم سبھی کا آپسی تعاون، ایک حکومت کا دوسری حکومت کے ساتھ تال میل، کورونا سے لڑائی میں ملک کو ایسے ہی طاقت دیتا رہے گا۔ ایک بات ہم بخوبی جانتے ہیں، ہمارے ملک میں ہر گھر میں یہ روایت ہے۔ جو آیورویدک چیزیں ہیں، کاڑھا وغیرہ پینے کی جو روایت ہے، وہ اس موسم میں فائدہ مند ہیں۔ اس کا ذکر میں کسی میڈیسن کے طور پر نہیں کررہا ہوں، لیکن اس کا استعمال ہے۔ اور میں تو اہل وطن سے بھی درخواست کروں گا کہ یہ جو ہماری روایتی گھریلو چیزیں ہیں، ایسے وقت میں ان سے بھی کافی مدد ملتی ہے۔ اس پر بھی ہم توجہ مرکوز کریں۔

 

ساتھیو!

 

آپ سبھی نے وقت نکالا، ہم سب نے تشاویش مشترک کیں اور ہم سب نے مل کر کہ بحران کتنا ہی بڑا کیوں نہ آئے، ہماری تیاریاں، ہمارا مقابلہ کرنے کا اعتماد اور کامیاب ہونے کے عزم کے ساتھ ہر ایک کی باتوں سے نکل رہا ہے، اور یہی عام شہریوں کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اور عام شہریوں کے تعاون سے ہم اس صورت حال سے بھی کامیابی کے ساتھ گزریں گے۔ آپ سبھی نے وقت نکالا اس کے لئے میں تہہ دل سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔