نیشنل

راہل خان قتل معاملہ: ایس ڈی پی آئی نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا

 

راہل خان قتل معاملہ: ایس ڈی پی آئی نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا

ایس ڈی پی آئی کے وفد نے متوفی راہل خان کے اہل خانہ سے ملاقات کیا

نئی دہلی25 دسمبر ۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد کی قیادت میں ایک وفد نے ہریانہ کے رسول پور گاؤں میں 13دسمبر کو بے دردی سے مارے گئے 23سالہ شادی شدہ نوجوان راہل خان کے گھر کے دورہ کیا۔ سنگھ پریوار کے تین غنڈوں نے فرقہ وارانہ نعرے لگاتے ہوئے راہل خان کو مار مار کر ہلاک کردیا، انہوں نے قتل کی ویڈیو گرافی کی اور اسے سوشیل میڈیا پر نشر کیا۔ منصوبہ بند وحشیانہ قتل کو اس دن انجام دیا گیا، جس دن راہل خان کا خاندان رسول پور سے متصل سرائے کٹیلا گاؤں میں اپنے نئے تعمیر شدہ مکان میں منتقل ہوا۔ مقتول کے والد چڈی خان، انڈین ریلوے میں ایک معمولی ملازم خلاسی کے عہدے سے اپیل میں ریٹائر ہوئے تھے، گاؤں میں اپنے خاندان کے ساتھ ایک کرایہ کے مکان پررہ رہے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا اور اس میں مکان تعمیر کیا، وہ 13دسمبر کو راہل خان اور ان کی اہلیہ شاہینہ کو اگلے دن نئے گھر آنے کا کہہ کر نئے تعمیر شدہ گھر میں شفٹ ہوئے۔ اس شام راہل جان کے ایک دوست کلوا نے انہیں باہر گھومنے پھرنے کی دعوت دی، کہا جاتا ہے کہ راہل خان نے دعوت نامے سے انکار کردیا کیونکہ ان کی اہلیہ گھر میں اکیلی تھیں۔ کلوا کے مسلسل دباؤ پر، شاہینہ نے راہل خان کو کلوا اور دیگر دوستوں کے ساتھ باہر جانے کی اجازت دی،

 

 

کیونکہ یہ گاؤں میں ان کا آخر ی دن تھا،راہل خان اس کے بعد گھر کھبی واپس نہیں آیا۔ رات گئے تک راہل کے واپس نہ آنے کی وجہ سے شاہینہ نے رشتہ داروں اور مقامی پولیس کو اطلاع دی۔ اگلے دن لواحقین کو کلوا سے پتہ چلا کہ راہل خان ایک حادثے میں زخمی ہوا ہے۔ راہل کا کزن محمد یوسف کلوا کے گھر پہنچا،جس نے یوسف کے ساتھ بدتمیزی کی اور دھمکیاں دیں۔ اس کے بعد مزید رشتہ دار کلوا کے گھر پہنچے جہاں راہل خان بغیر کپڑوں کے خون میں لت پت پڑا ملا، جسم کے ہر کے ہر حصے پر شدید زخم تھے، لواحقین نے نیم بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا، وہ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا، 16دسمبر کو سوشیل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا جس میں رسول پور سے تعلق رکھنے والے نوجوان اوم پال عرف کلوا، وشال بالمیکی اور آکاش پرجاپتی عرف دل جلے کو دکھایا گیا ہے، جو راہل کو ہر وار کے ساتھ با ر بار”ہم ہندو ہیں اور تم میاں "کے نعرے لگار ہے ہیں۔ قتل کے کئی دن گذرنے کے بعد بھی اس وقعہ کی کوئی تحقیقات نہیں ہوسکی ہے۔ شاہینہ سے بیان کیلئے کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے،خاندان نے اپنا واحد روٹی کمانے والا کھودیا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں بھی متاثرہ کو جر م میں برابر کا شریک کار کے طورپر پیش کرنے والا ایک جوابی بیانیہ تیار کیا گیا ہے،

 

 

جیسا کہ مسلمانوں، دلتوں یا قبائیلیوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہوتا ہے۔ راہل خان کو مجرموں نے شرابی اور موبائل چور کے طور پر پیش کیا ہے۔ مظلوم کی کردار کشی کی یہ حکمت عملی معصوم متاثرین کے خلاف تشدد کے ہر معاملے میں ایک عام عمل ہے تاکہ اکثریتی تشدد کے عذر کے طور پر مجرموں کو   اکسانے کا سبب بنایا جاسکے۔ ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کامطالبہ کیا ہے تاکہ سوگوار خاندان کو انصاف فراہم کیا جاسکے اور علاقے میں ایسے جرائم کا دوبارہ رونما ہونے سے روکنے اور انہیں قابو کرنے کے مقصد سے قانون کی حکمرانی کو مضبوط کیا جاسکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button