مہاتما گاندھی کے مشورہ پر ویر ساورکر نے انگریزوں سے رحم کی درخواست پیش کی تھی: راج ناتھ سنگھ

نئی دہلی _ ویر ساورکر کو ایک کٹر قوم پرست اور 20 ویں صدی میں ہندوستان کا پہلا فوجی حکمت عملی بنانے والا قرار دیتے ہوئے  وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے  کہا کہ مہاتما گاندھی کے مشورہ پر ساورکر نے انگریزوں سے  رحم کی درخواست پیش کی تھی لیکن  مارکیسٹ  اور لیننسٹ نظریے کے لوگوں نے ان پر غلط الزام لگایا کہ وہ  ایک فاشسٹ تھے

راج ناتھ سنگھ نے منگل کو ساورکر کی کتاب کی رسم اجرائی کی ایک تقریب میں ساورکر کو ایک قومی آئیکان قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ملک کو ایک مضبوط دفاعی اور سفارتی نظریہ دیا ہے۔

وہ ہندوستانی تاریخ کے آئیکان تھے اور رہیں گے۔ ان کے بارے میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے ، لیکن ان کو کمتر سمجھنا مناسب اور جائز نہیں ہے۔ وہ ایک آزادی پسند اور کٹر قوم پرست تھے ، لیکن وہ لوگ جو مارکسسٹ اور لیننسٹ نظریے کی پیروی کرتے ہیں وہ ساورکر پر فاشسٹ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔

ساورکر کے  ایک مجاہد آزادی قرار دیتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ آزادی کے لیے ان کا عزم اتنا مضبوط تھا کہ انگریزوں نے انہیں دو بار عمر قید کی سزا سنائی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ بار بار ساورکر کے بارے میں جھوٹ پھیلایا گیا۔ یہ بات پھیلائی گئی کہ انھوں نے جیلوں سے رہائی کے لیے بہت سی رحم کی درخواستیں دائر کیں ۔ یہ مہاتما گاندھی تھے جنہوں نے ان سے رحم کی درخواستیں دائر کرنے کو کہا تھا