ویر ساورکر مسلمانوں کے دشمن نہیں تھے ‘ انہوں نے اردو میں غزلیں لکھیں !

حیدرآباد_ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سربراہ موہن بھاگوت نے  کہا کہ ویر ساورکر مسلمانوں کے دشمن نہیں تھے اور انہوں نے اردو میں غزلیں لکھیں۔موہن بھاگوت نے کہا کہ آزادی کے بعد ویر ساورکر کو بدنام کرنے کی مہم چلائی گئی تھی اور سوامی وویکانند سمیت دیگر کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

انفارمیشن کمشنر اور سابق صحافی اودے مہورکر کی کتاب ‘ویر ساورکر: وہ آدمی جو تقسیم کو روک سکتا تھا’ کی رسم اجرائی پر خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ ویر ساورکر کو بدنام کرنے کی مہم چلائی گئی تھی۔ آزادی کے بعد یہ مہم بہت تیزی سے آگے بڑھی۔ابھی ، سنگھ اور ساورکر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سوامی ویویکانند ، سوامی دیانند اور سوامی اروند جیسے لوگ قطار میں ہیں۔مستقبل میں ان کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے

موہن بھاگوت نے کہا کہ جو لوگ ہندوستان میں اتحاد کے خلاف ہیں وہ انہیں پسند نہیں کرتے۔یہاں سب برابر ہیں ۔پارلیمنٹ کی مثال دیتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ جسمانی لڑائی کو چھوڑ کر ، پارلیمنٹ میں کیا نہیں ہوتا؟ لیکن باہر ، سب ایک ساتھ چائے پیتے ہیں اور ایک دوسرے کی شادی میں جاتے ہیں۔
موہن بھاگوت نے کہا کہ کئی لوگوں نے ہندوستانی سماج میں ہندوتوا اور اتحاد کی بات کی ، لیکن ساورکر نے اس کے بارے میں زور سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر کوئی  آواز اٹھاتا تو  آج ملک کی کوئی تقسیم نہ ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوتوا کو ساورکر کا ہندوتوا ، ویویکانند کا ہندوتوا بیان کرنا فیشن ہوگیا  ہے۔ ہندوتوا ایک تھا ، ایک ہے اور آخر تک ایک رہے گا۔آر ایس ایس کے سربراہ نے چند  مسلم لیڈروں کے نام لیتے ہوئے کہا کہ ان کی یاد میں تقریب منعقد کرنا چاہیے۔ اشفاق اللہ خان نے کہا تھا کہ مرنے کے بعد وہ اگلے جنم میں بھی ہندوستان میں پیدا ہونے کی خواہش رکھتے ہیں ایسے لوگوں کے نام گونجنے چاہئے۔موہن بھاگوت نے کہا کہ ساورکر مسلمانوں کے دشمن نہیں تھے اور انہوں نے اردو میں غزلیں لکھی تھیں۔

بھاگوت نے کہا کہ اختلافات فطری ہیں۔ اگر ہم اختلاف کرتے بھی ہیں تو ہم ساتھ مل کر چلیں گے ۔