ملک میں قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کا استحکام ہو : جماعت اسلامی ہند

 

نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کی حالیہ منعقدہ مجلس نمائندگان نے اپنی قرارداد میں حکومت اور باشندگان ملک  پر زور دیا ہے کہ وہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے اور جمہوری اقدار کو پامال ہونے سے بچانے کے لئے اپنا مثبت رول ادا کریں۔ مجلس نمائندگان نے سماج میں بڑھتی ہوئی نفرت اور بعض افراد اور گروہوں کی جانب سے کمزور طبقات اور مسلمانوں  کے خلاف ہورہے مسلسل مظالم اور جارحیت  کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حالات ملک کے لیے نہایت نقصان دہ ہیں اور پوری دنیا میں ملک کی شبیہ کو بگاڑنے کا سبب بن رہے ہیں۔ سماج میں نفرت پھیلا کر بعض سیاسی طاقتیں وقتی فائدے تو حاصل کرسکتی ہیں لیکن اس کے نہایت منفی اثرات ملک و سماج پر پڑیں گے۔ باشندگان ملک کو اس سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کسانوں کی جانب سے ایک سال سے جاری احتجاج کو جمہوری اور پُرامن قرار دیتے ہوئے اجلاس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ہند کسانوں کی تحریک کو بزور کچلنے کے بجائے ان کے مطالبات کے ساتھ سنجیدہ رویہ اختیار کرے۔خواتین سے متعلق قرار داد میں جماعت نے خواتین، نوعمر اور کمسن لڑکیوں پر ہورہے مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں خواتین کی عصمت دری اور اہانت کے واقعات معمول بنتے جارہے ہیں۔ مجرم یا تو قانون کی گرفت میں نہیں آتے یا آتے بھی ہیں تو انہیں جلد قرار واقعی سزا نہیں ملتی۔ دوسری جانب سماج میں خواتین کے حقوق سے متعلق حساسیت کمزور پڑتی جارہی ہے۔ خواتین کے تحفظ اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے سماج اور حکومت دونوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔مجلس نمائندگان نے ملک میں بڑھتی بے روزگاری،سنگین معاشی بحران، بے تحاشا بڑھتی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی ہے اور بعض سرکاری اداروں کی نجی کاری پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایر انڈیا اور ریلوے جیسے ملک کے بڑے اداروں کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے جیسے اقدامات سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ موجودہ حکومت، معاشی پالیسیوں میں, ریاست کے فلاحی و رفاہی کردار کی بجائے سرمایہ دارانہ استحصالی رجحان کو اختیار کررہی ہے جو ملک کے لیے کسی طرح بہتر نہیں ہے۔ نجی کاری کے ان فیصلوں سے یہ بات بھی عیاں ہوجاتی ہے کہ حکومت ایسے بڑے اداروں کو چلانے کی اہلیت نہیں رکھتی ہے۔گزشتہ دنوں منظور کیے گئے بعض قوانین کے سلسلے میں مجلس نمائندگان کا احساس ہے کہ ان قوانین کی آڑ میں حکومت کے سیاسی مخالفوں، اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور دستور میں دی گئی ان کی آزادیوں پر قدغن لگانا مقصود ہے۔ اجلاس اس پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔