پیگاسس اسپائی ویئر جاسوسی معاملہ کی سپریم کورٹ میں سماعت _ چیف جسٹس این وی رمنا کے اہم ریمارکس

نئی دہلی _ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ اگر  مرکزی حکومت کی جانب سے کی گئی جاسوسی کے الزامات سچ  ثابت ہوتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کی حرکت کرنا انتہائی سنگین معاملہ ہوگا۔ یہ ریمارکس چیف جسٹس رامنا نے مشہور صحافی این رام اور دیگر کی جانب سے پیگاسس اسپائی ویئر معاملے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران کئے ۔

 

سپریم کورٹ نے آج  پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعے کی گئی جاسوسی کے معاملے کی عدالت کی زیر نگرانی تحقیقات کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت نے اسرائیل میں این ایس او گروپ کے تیار کردہ اس سپائی ویئر کے ذریعے کچھ سیاستدانوں ، سماجی کارکنوں اور صحافیوں کی جاسوسی کر رہی ہے۔

 

سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے درخواست گزار این رام اور دیگر کی جانب سے اس کیس کی پیروی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پیگاسس ایک خطرناک ٹیکنالوجی ہے۔ یہ ہماری زندگیوں میں  داخل ہو رہا ہے جس کا ہمیں علم نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری جمہوریہ کی اقدار ، ذاتی رازداری ، وقار اور شائستگی پر حملہ ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ اگر جاسوسی کے الزامات سچے ہیں تو بلاشبہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ 2019 میں ، جاسوسی  کے الزامات سامنے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ  نہیں جانتے کہ اس معاملے میں مزید جاننے کے لیے کوئی کوشش کی جا رہی ہے یا نہیں۔

 

کپل سبل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیگاسس اسپائی ویئر صرف سرکاری اداروں کو  فروخت کیا جا رہا ہے۔ خانگی کمپنیوں کو اسے حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں ، عدالتی عہدیداروں ، ماہرین تعلیم اور آئینی عہدیداروں پر اسپائی ویئر سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ اسے کس نے خریدا ہے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اس سے متعلقہ ہارڈ ویئر کہاں رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت نے اس پر ایف آئی آر کیوں درج نہیں کیا ۔کپل سبل نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی پیگاسس سپائی ویئر کا مسئلہ ہمارے ملک تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اسرائیل کی کمپنی صرف ہندوستان کے سرکاری ایجنسیوں کو پیگاسس سافٹ ویئر فروخت کر رہی  ہے تو ایسی صورت میں فون ہیکنگ کا معاملہ مرکزی حکومت کے علم میں ضرور ہوگا۔

کپل سبل کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر اگلی سماعت منگل کو ملتوی کردی۔