نیشنل

سپریم کورٹ نے گیان واپی مسجد کے سروے کو روکنے سے کردیا انکار

نئی دہلی _ 13 مئی ( اردولیکس) سپریم کورٹ نے آج اتر پردیش کے وارانسی میں واقع گیان واپی مسجد میں سروے کو روکنے کی درخواست کو خارج کر دیا۔ کئی برسوں سے اس مسجد پر ہندووں نے مندر پونے کا دعوی کرتے آرہے ہیں جس پر  الہ آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ مسجد میں ویڈیو سروے کرایا جائے۔ آلہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ  میں ایک عرضی داخل کی گئی اور سروے کو روکنے کی درخواست کی گئی تاہم سپریم کورٹ نے آج سروے کو روکنے سے انکار کر دیا۔ تاہم عدالت اعظمی نے اس درخواست کا جائزہ لینے کا تیقین دیا۔

چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی والی بنچ نے آج کیس کی سماعت کی۔ وکیل حذیفہ احمدی نے کہا کہ گئان واپی مسجد میں کئی سالوں سے نمازیں ہوتی رہی ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سے کہا کہ مسجد میں سروے کے لیے دیے گئے احکامات کو معطل کیا جائے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس رمنا نے کہا کہ انہیں تنازعہ کے بارے میں کچھ  نہیں معلوم، اس لئے سروے روکنے کا وہ آرڈر  نہیں دے سکتے، چیف جسٹس نے درخواست گزار سے کہا کہ وہ آلہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی مجھے کاپی حوالے کریں میں پہلے اس فیصلے کا مطالعہ کریں گے۔

وارانسی کی مقامی عدالت کے حکم کے مطابق ایڈوکیٹ کمیشن مسجد میں ویڈیو سروے کر رہا ہے۔ سروے کو 17 مئی تک مکمل کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button