نیشنل

بریکنگ نیوز _ گجرات فسادات میں وزیراعظم مودی کو دی گئی کلین چٹ کے خلاف ذکیہ جعفری کی طرف سے دائر درخواست سپریم کورٹ میں خارج

نئی دہلی _ 24 جون ( اردولیکس) سپریم کورٹ نے کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری کی طرف سے دائر درخواست کو خارج کر دیا، جس میں 2002 کے گجرات فسادات کے سلسلے میں خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی کو دی گئی کلین چٹ کو چیلنج کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ آج جمعہ کو سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ جو جسٹس اے ایم کھانولکر، دنیش مہیشوری اور سی ٹی روی کمار پر مشتمل تھی نے سنایا۔

سپریم کورٹ نے 8 دسمبر 2021 کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔اور آج اس کا فیصلہ سنایا۔واضح رہے کہ گجرات میں 2001 کے مسلم کش فسادات کے دوران کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری ، گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں مارے گئے تھے

گجرات فسادات کے بعد ذکیہ جعفری نے 2006 میں گجرات کے اس وقت کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کے سامنے شکایت درج کرائی تھی، جس میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے اندراج کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ شکایت مختلف بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے خلاف کی گئی تھی، جن میں مودی بھی شامل تھے جو اس وقت گجرات کے چیف منسٹر تھے۔

2008 میں، عدالت عظمیٰ نے فسادات کے سلسلے میں کئی ٹرائلز پر رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) کا تقرر کیا اور بعد ازاں SIT کو جعفری کی طرف سے دائر کی گئی شکایت کی تحقیقات کا حکم دیا۔

2011 میں، سپریم کورٹ کی طرف سے ایس آئی ٹی کو متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اور عرضی گزار کو اس رپورٹ پر اپنے اعتراضات، اگر کوئی ہیں تو داخل کرنے کی آزادی دی گئی تھی۔

2013 میں، درخواست گزار کو اس کی ایک کاپی دینے کے بعد، انھوں نے کلوزر رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے ایک پٹیشن دائر کی، جس میں مودی سمیت کئی بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کو کلین چٹ دی گئی۔

مجسٹریٹ نے ایس آئی ٹی کی کلوزر رپورٹ کو برقرار رکھا اور جعفری کی عرضی کو خارج کر دیا۔ ذکیہ جعفری نے گجرات ہائی کورٹ سے اس کو رجوع کیا جس نے 2017 میں مجسٹریٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور جعفری کی طرف سے دائر درخواست کو خارج کر دیا۔

بعد ازاں ذکیہ جعفری نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کے ساتھ اس معاملے کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا  جس میں ایس آئی ٹی کی کلین چٹ کو قبول کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اور آج سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا۔جس میں عدالت اعظمی نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر دیے گئے فیصلے کو برقرار رکھا

متعلقہ خبریں

Back to top button