پاکستان میں مسجد سے پانی لینے والے ہندو خاندان پر تشدد ؛ اسلام کے مغائر _سید نصیرالدین چشتی

حیدرآباد _ آل  انڈیا صوفی سجادنشین کونسل کے چیئرمین سید نصیرالدین  چشتی نے  پاکستان میں پیش آئے غیر اسلامی  واقعے کی مذمت کی جس میں ایک ہندو خاندان کو   مسجد سے پینے کا پانی لانے پر  مبینہ طور پر یرغمال بنایا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔
نصیر الدین چشتی نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں ناقابل معافی اور اسلام کے خلاف ہیں۔

نصیر الدین چیسٹی نے کہا کہ پاکستان میں ایک ہندو خاندان پر حملہ انتہائی قابل مذمت اور ناقابل معافی ہے۔ پاکستان خود کو ایک اسلامی ملک کہتا ہے لیکن مذہب کے نام پر تشدد کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں اسلام کے اصل اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔

نصیر الدین چشتی جو اجمیر درگاہ کے موجودہ روحانی سربراہ کے جانشین بھی ہیں۔نے پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ایک مسجد سے پینے کا پانی لانے والے غریب ہندو خاندان کو مبینہ طور پر یرغمال بنانے اور تشدد کا نشانہ بنانے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔

پنجاب کے رحیم یار خان شہر کا رہائشی عالم رام بھیل اپنی بیوی سمیت خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ایک کھیت میں کچی کپاس چن رہا تھا۔بھیل نے بتایا کہ جب یہ خاندان قریبی مسجد کے باہر ایک نل سے پینے کا پانی لانے گیا تو کچھ مقامی زمینداروں نے ان کی پٹائی کی۔زمینداروں نے انہیں اپنے ڈیرے میں یرغمال بنا لیا اور مبینہ طور پر مسجد کے تقدس کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

نصیر الدین چشتی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ واقعہ ایک اشتعال انگیز فعل ہے اور اسے  ان افراد نے انجام دیا جو فرقہ واریت سے اندھے ہیں اور جو اسلام کے حقیقی دشمن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔