نیٹ امتحان سے ریاست کو مستقل طور پر چھوٹ دینے کی درخواست کرتے ہوئے تاملناڈو اسمبلی میں قرارداد

چنائی _ تمل ناڈو کے چیف منسٹر ایم کے اسٹالن نے ایک اہم فیصلہ میں ایم بی بی ایس کورسس میں داخلوں کے لئے منعقد ہونے والے نیٹ امتحان سے ریاست کو مشتشنی قرار دینے کی مرکزی حکومت سے درخواست کی ہے ۔چیف منسٹر اسٹالن نے پیر کو اسمبلی میں ایک بل پیش کیا  جس میں تامل ناڈو کو قومی اہلیت کم داخلہ ٹیسٹ (NEET) سے مستقل چھوٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔چیف منسٹر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے کہا کہ آج میں نے NEET کے خلاف ایک قرارداد پیش کی ہے ۔ آپ نے بھی ماضی میں یہ قرارداد  پیش کی تھی ۔ سٹالن نے  کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اس قرارداد کی حمایت کرے۔ تاہم اپوزیشن انا ڈی ایم کے نے اسمبلی سے واک آؤٹ کردیا۔

اپوزیشن لیڈر پلانی سوامی نے الزام لگایا کہ طلباء اور والدین اس بات پر الجھن میں ہیں کہ NEET تمل ناڈو میں ہوگا یا نہیں اور طالب علم کی خودکشی کے معاملے پر اسمبلی میں بحث تک نہیں ہوئی۔ انہوں نے NEET پر واضح موقف اختیار نہ کرنے پر ڈی ایم کے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ طلباء نے امتحان کی تیاری یہ سونچ کر نہیں کی کیونکہ NEET کو ختم کردیا جائے گا۔ طالب علم کی خودکشی کی ذمہ دار حکومت ہے۔ ہم اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ تاہم ، پالانی سوامی نے کہا کہ وہ قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ تاملناڈو کے سیلم میں ایک طالب علم جو NEET میں شرکت کرنا چاہتا تھا گذشتہ روز اس نے امتحان سے چند گھنٹے قبل خودکشی کرلی۔

واضح رہے کہ ڈی ایم کے پارٹی نے انتخابات میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی پارٹی اقتدار میں آنے پر نیٹ امتحان کو ریاست میں منعقد ہونے نہیں دے گی۔اس خصوص میں اسمبلی میں قرارداد پیش کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا