نیشنل

آندھراپردیش کے آتماکور ٹاون میں حالات پرامن _ مسجد کی تعمیر کے مسئلہ پر پیش آئے تشدد کے بعد 28 افراد کی گرفتاری

کرنول _ 8 جنوری ( اردو لیکس) آندھراپردیش کے آتماکور ٹاون میں حالات مکمل طور پر قابو میں آگئے ہیں جمعہ روز آتماکور ٹاون کے اربن کالونی میں مسجد کی تعمیر کے مسلہ پر بی جے پی کے لیڈر سریکانت ریڈی نے پارٹی کارکنوں کے ساتھ پہنچ کر گڑ بڑ کی تھی جس کے نتیجہ میں دونوں طبقات میں تصادم کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں تین افراد زخمی ہوگئے اور تین گاڑیوں کو جلا دیا گیا۔پھتراو اور دونوں طبقات کے تصادم کو روکنے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ بھی کی تھی

پولیس نے ٹاون میں دفعہ 144 نافذ کردیا ہے اور چار افراد کو جمع ہونے نہیں دیا جا رہا ہے ٹاون میں پولیس کا فلیگ مارچ بھی کیا گیا اور بھاری پولیس کو تعینات کیا گیا ہے پولیس کے اعلی عہدیداروں نے امن کی بحالی کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ اب تک تشدد کے واقعہ میں دونوں طبقات کے 28 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے

واضح رہے کہ گزشتہ روز کرنول ضلع کے آتماکور ٹاون میں بی جے پی قائدین اور کارکنوں نے  شر انگیزی کرتے ہوئے ایک مسجد کی تعمیر میں رکاوٹیں کھڑی کی ۔اعتراض کرنے والے اقلیتی طبقہ کے افراد پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجہ میں دو طبقات کے درمیان پھتراو اور مار پیٹ کا واقعہ پیش آیا تھا ۔پولیس نے دونوں طبقات کے افراد کو منتشر کرنے ہوائی فائرنگ بھی کی تھی ۔

آتماکور ٹاون میں واقع اربن کالونی میں زیر تعمیر مسجد فیض النساء کے کاموں کو بی جے پی کے مقامی قائد و سری سیلم اسمبلی کے بی جے پی انچارج سریکانت ریڈی نے مسجد کے مقام پر پہنچ کر کاموں کو روکنے کی کوشش کی تھی ۔جس پر اقلیتی طبقہ کے افراد نے بی جے پی کی شرانگیزی کے خلاف نعرے لگائے تھے ۔اس دوران بی جے پی قائدین اور کارکنوں نے اقلیتی طبقہ کے افراد پر حملہ شروع کردیا۔جس میں تین افراد زخمی ہوگئے تھے

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button