نیشنل

نوزائیدہ بچوں کی پیدائش اور لوگوں کی موت کی تفصیلات بھی اب جمع کرے گا آدھار کارڈ تیار کرنے والا ادارہ یو آئی ڈی اے آئی

حیدآباد_ 16 جون (اردولیکس) ہندوستان کی منفرد شناختی اتھارٹی (UIDAI) نے آدھار نے چند اہم فیصلے لیے ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کو عارضی آدھار الاٹ کیا جائے گا۔ اموات کے اندراج کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے ۔ اس کے لیے دو پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ نوزائیدہ بچوں کو ایک عارضی آدھار نمبر جاری کیا جائے گا۔ مستقل آدھار نمبر پانچ سال کے بعد جاری کیا جائے گا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ بچہ بالغ ہونے  کے بعد بائیو میٹرک کی بھی رجسٹریشن کی جائے گی۔

اس کے علاوہ کسی انسان کی تاریخ پیدائش سے لے کر موت کی تاریخ تک کی  تفصیلات بھی جمع کی جائیں گی۔ ذرائع نے بتایا کہ آدھار نمبر سے حکومت کی فلاحی اسکیموں اور ملازمین کی پنشن کے فوائد کو غلط استعمال سے روکا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی یہ واضح کیا جاسکتا ہے کہ اس شخص کے لائف سائیکل ڈیٹا کا کتنا حصہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کے آدھار نمبروں کو موت کے اندراج کے ڈیٹا بیس اور سرکاری اور خانگی ہاسپٹل کے ڈیٹا بیس سے جوڑنے سے خامیوں کو ختم کرنا ممکن ہوگا۔

آدھار کو 2010 میں اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے شروع کیا تھا۔ آدھار دنیا کا سب سے بڑا بائیو میٹرک شناختی ڈیٹا بیس ہے۔ ہندوستان کی تقریباً پوری بالغ آبادی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت،  پسماندہ لوگوں کو سماجی تحفظ کے دائرے میں لانے کے لیے آدھار کا وسیع استعمال کر رہا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پچھلے آٹھ سالوں میں، آدھار سسٹم نے لیکیج کو روکنے میں مدد کی ہے، غریبوں، کسانوں اور بہت سے دوسرے لوگوں کو ان کے بینک کھاتوں میں براہ راست رقم منتقل کرنے میں مدد کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button