نیشنل

بلڈوزر کارروائی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر اترپردیش حکومت نے سپریم کورٹ کو دیا یہ جواب

لکھنو_ 22 جون ( اردولیکس) اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے  حال ہی میں پریاگ راج میں ریاستی حکام کے ذریعہ مکانات اور دیگر عمارتوں کو مسمار کرنے کی کارروائی کی مدافعت کی۔ اور اسے قانون کے مطابق کارروائی قرار دیا ۔

جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے دائر درخواست کا جواب دیتے ہوئے اترپردیش حکومت نے سپریم کورٹ کو یہ بات بتائی ۔جس میں ان لوگوں کے مکانات کو مسمار کرنے کو چیلنج کیا گیا تھا جنہوں نے مبینہ طور پر بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا تھا، جس نے پیغمبر اسلام کے خلاف تبصرے کیے تھے۔

اترپردیش حکومت نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ پریاگ راج میں مکانات کی انہدامی کارروائی مقامی ترقیاتی اتھارٹی کے ذریعہ کی گئی تھی جو ریاستی حکومت کی طرف سے ایک خود مختار ادارہ ہے اور شہر کو غیر قانونی اور غیر مجاز تعمیرات سے پاک کرنے کی ان کی کوششوں کا ایک حصہ تھا۔

خاص طور پر آفرین فاطمہ کے والد جاوید محمد کے گھر کے انہدام کے بارے میں، ریاستی حکومت نے بتایا کہ یہ تعمیر "پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قوانین کی خلاف ورزی” میں تھی اور یہ کارروائی "فسادات سے بہت پہلے” شروع کی گئی تھی حکومت نے اپنے جواب میں مزید بتایا گیا کہ متاثرہ فریقین میں سے کسی نے بھی عدالت سے اس مسئلہ کو رجوع نہیں کیا۔حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ تمام اقدامات یوپی اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کے مطابق تھے۔

جسٹس اے ایس بوپنا اور وکرم ناتھ کی بنچ نے پچھلی سماعت کے دوران حکام پر زور دیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جب تک اس معاملے کی اگلی سماعت نہیں ہوتی کوئی ناخوشگوار واقع نہ ہو۔

جمعیۃ علماء ہند کی عرضی، جسے ایڈوکیٹ کبیر ڈکشٹ کے ذریعے عدالت عظمیٰ میں پہلے سے زیر التوا مقدمے میں داخل کیا گیا تھا، میں کہا گیا تھا کہ ریاست میں انہدام بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کے خلاف مظاہروں کے بعد کیا گیا، جس نے ایک ٹیلی ویژن مباحثے کے دوران پیغمبر اسلام اور اسلام کے خلاف تبصرے کیے، جس نے بین الاقوامی سطح پر ہنگامہ کھڑا کردیا۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button