ہم نے تین طلاق کے خلاف قانون بناکر مسلم خواتین کو نئے حقوق دئے: وزیراعظم نریندر مودی

نئی دہلی _ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ کئی دہائیوں سے  مسلم خواتین   تین طلاق کے خلاف قانون کا مطالبہ کررہی تھیں،  ہم نے تین طلاق کے خلاف قانون بناکر مسلم خواتین کو نئے حقوق دئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے شعبے  خواتین کے لئے کھولے گئے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ وہ  24  گھنٹے سکیورٹی کے ساتھ کام کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے  کام کرنے والی خواتین کے لئے  تنخواہ کےساتھ  26 ہفتے کی زچگی کی چھٹیوں کو  یقینی بنایا ہے ، یہ ایک ایسا کارنامہ ہے، جسے کئی ترقی یافتہ ممالک بھی انجام نہیں دے سکے ہیں۔

 

نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ  کے ذریعہ قومی حقوق انسانی کمیشن ( این  ایچ آر سی ) کے 28 ویں یوم تاسیس  کے پروگرام میں شرکت کی ۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جدوجہدآزادی اور اس کی تاریخ انسانی حقوق اور  بھارت کے لئے انسانی حقوق کی اقدار کا ایک عظیم وسیلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملک کے طورپر ، ایک سماج کے طورپر  ہم نے ناانصافی – ظلم وزیادتی کے خلاف مزاحمت کی اور ہم نے صدیوں تک اپنے حقوق کے لئے لڑائی لڑی

وزیراعظم نے کہا کہ انسانی حقوق کا تصور غریبوں کے وقارسے قریبی تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب غریب سے غریب تر شخص کو  حکومت کی اسکیموں  میں  برابر کی حصہ داری نہیں ملتی ، اس وقت  حقوق کا سوال اٹھتا ہے۔ وزیر اعظم نے غریبوں کے وقار کو  یقینی بنانے کے لئے حکومت کی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب  ایک شخص  تو کھلے میں رفع حاجت سے آزادی  کے حصو ل کے بیت الخلاء حاصل ہوتا ہے تو اسے وقار حاصل  ہوتا ہے

وزیراعظم نے کہا کہ اس بات کو سمجھنا بھی بہت اہم ہے کہ انسانی حقوق کا تعلق صرف حقوق سے نہیں بلکہ ہماری ذمہ داریوں سے  بھی ہے ۔ یہ بات کہتے ہوئے  کہ انسانی ترقی  اور انسانی وقار کے سفر کے لئے حقوق اور ذمہ داریاں دو پہلو ہیں ،  انہوں  نے زور دے کر کہا کہ حقوق کی طرح ذمہ داریاں  بھی اتنی ہی اہم ہیں اور انہیں الگ نہیں رکھنا چاہئیں کیونکہ یہ ایک دوسرے سے  جڑی ہوئی ہیں۔