شہرہ آفاق، ممتاز ادیب مولانا “نور عالم خلیل امینی” استادِ ادب، دارالعلوم دیوبند کے انتقال پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر کا اظہار تعزیت

نئی دہلی: معروف عالم دین، ادیبِ زماں، صاحبِ لسان، مدیرِ مجلہ “الداعی عربی” استادِ عربی ادب دار العلوم دیوبند، حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کئی دنوں سے علیل تھے، اور دورانِ علاج آج بروزِ دوشنبه داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کا وطن مالوف مظفرپور بہار ہے۔آپ نے مدرسہ امدادیہ دربھنگہ ، دارالعلوم مئو اور دارالعلوم دیوبند سے خوشہ چینی کے بعد 1970ء میں درسِ نظامی کی تکمیل کے لیے مدرسہ امینیہ میں داخلہ لیا۔
آپ کے اساتذہ میں مولانا وحید الزماں کیرانوی اور مولانامحمد میاں دیوبندی وغیرھم چوٹی کے جید اور ذی استعداد علماء شامل ہیں۔
آپ معروف عالمِ دین، مایہ ناز ادیب اور ازہرِ ہند دار العلوم دیوبند میں عربی ادب کے استاذ تھے۔ آپ کی عربی اور اردو زبان میں متعدد کتابیں منظرِ عام پر آئیں، اور کافی مقبول ہوئیں ۔آپ کی کتاب “فلسطین فی انتظار صلاح الدین” پر آسام یونیورسٹی سے مقالہ لکھا گیا۔
اور “مفتاح العربیہ” مختلف مدارس میں درس نظامی کے نصاب میں شامل ہے۔
آپ کو“صدارتی سرٹیفکیٹ آف آنر” (Presidential Certificate of Honour) کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
آپ نے لمبے عرصے تک دارالعلوم دیوبند میں علمی خدمت انجام دی، لاکھوں کی تعداد میں آپ سے فیض یافتہ تلامذہ دنیا کے کونے کونے میں مختلف انواعِ دینی اور علمی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
مولانا خلیل امینی کے انتقال پر جمعیۃِ علماء مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مولانا “حلیم اللہ قاسمی” نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کے وجود سے علمی و ادبی حلقوں میں ایک نور تھا، جو اب بے نور سا ہوگیا۔
آپ کو عربی زبان پر غیر معمولی دسترس حاصل تھی، جس کی وجہ سے آپ کو عرب ممالک میں بھی انتہائی قدر و منزلت سے دیکھا جاتا تھا ، آپ مایہ ناز ادیب ،دارالعلوم دیوبند کے مقبول استاد تھے، مولانا اپنی منفرد شناخت کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور تھے۔
مولانا کا اس دار فانی سے کوچ کر جانا دارالعلوم ہی نہیں بلکہ پورے علمی اور ادبی حلقوں کے لئے عظیم خسارہ ہے ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا امینی کے درجات کو بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، علمی و دینی خدمات کو ذخیرہء آخرت بنائے۔ پسماندگان، متعلقین اور شاگردوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
تمام ائمہِ مساجد، ذمہ دارانِ مدارسِ عربیہ اور جماعتی احباب سے مولانا مرحوم کے بلند درجات اور ایصالِ ثواب کے اہتمام کی درخواست ہے ۔