ہندوستانی نڑاد مسلم جج محمود جمال، سپریم کورٹ آف کینیڈا کے جج مقرر

حیدرآباد _ ہندوستانی نڑاد مسلم جج محمود جمال کو  کینیڈا کی سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا ہے۔ جمعرات کو کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا کہ وہ  محمود جمال کو سپریم کورٹ کا جج نامزد کررہے ہیں۔

محمود جمال سال  2019 سے کینیڈا کے اونٹاریو کورٹ آف اپیل جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کے دو اعلی لاء کالجوں میں انسٹرکٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ انہوں نے  35 سال سے زیادہ عرصہ تک سپریم کورٹ میں وکیل کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔وہ سپریم کورٹ کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔

ہاؤس آف کامنز جسٹس کمیٹی کے ذریعہ محمود جمال کی نامزدگی کی منظوری ابھی باقی ہے۔ لیکن یہ محض ایک رسمی حیثیت ہے۔ وہ 1967 میں نیروبی میں ایک ہندوستانی گھرانے میں پیدا ہوئے  تھے کینیڈا جانے سے پہلے 1981 میں برطانیہ میں پرورش پائی۔کینیڈا میں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ اقلیتی طبقہ ملک کی 3.8 کروڑ آبادی کا ایک تہائی حصہ  ہے۔ حکومت کینیڈا نے کالوں ، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ہونے والے حملوں کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا ہے۔