این آر آئی

سعودی عرب میں پھنسے ہندوستانی ورکرس کا ایک گروپ وطن واپس _ ہندوستانی قونصلیٹ کی کامیاب مساعی

 

 

عرفان محمد

جدہ _ 24 مئی : سعودی عرب میں پھنسے ہوئے اور پریشان ہندوستانیوں ورکرس کا ایک گروپ جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے گھر واپسی کا انتظار کر رہا تھا، آخر کار ان کے چہروں پر اس وقت خوشی کے  آنسوؤں دیکھے گئے  جب وہ پیر کی شام  وطن واپس ہونے کے لئے ایرپورٹ پہنچنے بس میں سوار ہوئے۔ جدہ میں ہندوستانی قونصل خانہ کی طرف سے ان کے لئے بس کا انتظام کیا گیا تھا

دیگر تارکین وطن کی طرح، ہندوستانی کمیونٹی بھی اپنے سعودی آجروں کے ساتھ طویل قانونی جدوجہد میں مصروف ہے، ایک سال سے زائد عرصے سے سعودی عرب میں کئی ہندوستانی تارکین وطن واپسی  کا انتظار کر رہے ہیں  اور ان میں سے بہت سے لوگ  ہر  ممکن دروازے پر دستک دینے کے بعد مستقبل قریب میں اپنے گھر واپس آنے کی امید کھو چکے ہیں۔

وطن واپس ہونے والے گروپ میں شامل ایک حیدرآبادی نے اپنے حالات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ نوکری کھونے کے بعد، مجھے 16 ماہ قبل بغیر کسی قصور کے مجھے بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا، اس کے بعد سے زندگی دکھی ہوگئی تھی کھانے اور رہائش کی بھی  مشکل ہوگئی تھی، یہاں تک کہ میرے پاس اپنے سیل  فون کو ری چارج کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے، اور نہ ہی میں ہندوستانی قونصل خانہ آنے جانے کے لیے ٹیکسی چارجز ادا کرنے کے قابل تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے گزشتہ ہفتے قونصلیٹ پہنچ معلومات حاصل کیں جہاں  انہیں بتایا گیا کہ ان کا نام سعودی حکام نے کلیئر کر دیا ہے اور وہ وطن جانے کے لیے تیار رہیں۔ بے سہارا این آر آئی نے مزید کہا کہ چونکہ ان  کا فون  ویزا کی میعاد ختم ہونے پر کام کرنا  بند کر دیا  تھا، اس لیے ہندوستانی قونصل خانہ آنے  تک پہنچنے کے قابل نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ نوکری کھونے کے بعد گزشتہ دو سالوں میں یہ واحد خوشخبری ہے۔ اسی طرح کے خیالات کا اظہار دیگر پھنسے ہوئے این آر آئیز نے بھی کیا  جن کا تعلق ہندوستان کے مختلف حصوں سے تھا۔ انہوں نے اپنی آزمائشوں اور مشکلات کے ساتھ ساتھ انڈین قونصلیٹ کی کوششوں کو سراہا۔

متعدد پھنسے ہوئے این آر آئی  جو وطن واپسی کے لیے ہندوستانی مشن  کی مدد کے خواہاں ہیں، تاہم، ان میں سے بہت سے پریشان افراد اپنے موبائل نمبر کھو بیٹھے ہیں کیونکہ ویزا کی میعاد سم کارڈز سے منسلک ہوتی ہے۔

ہندوستانی قونصل جنرل محمد شاہد عالم نے کہا کہ ہم پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو واپس بھیج رہے ہیں جنہوں نے اپنے نام ہمارے پاس اندراج کروائے ہیں مقامی حکام کے ساتھ ان کے  کیسوں کی جانچ پڑتال کے بعد مرحلہ وار اساس پر انھیں وطن واپس کیا جا رہا ہے

انھوں نے کہا کہ حکام کو ان میں سے بہت سے پھنسے ہوئے افراد تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کے فون بند پائے جا رہے ہیں ۔شاہد عالم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستانی قونصل خانے کی ہیلپ لائن اپنے شہریوں کی مدد کے لیے 24×7 کھلی ہے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button