این آر آئی

سعودی عرب میں غمزدہ حیدرآبادی خاتون پروین بیگم کی کہانی

پروین بیگم کو قونصل جنرل جدہ نے جمعہ کو حیدرآباد واپس بھیج دیا

عرفان محمد

جدہ 27 مئی : اس کے بازو میں ایک زخم کی وجہ سے خون بہہ رہا تھا جس سے اسے  شدید  درد ہو رہا تھا، جسمانی طور پر کمزور اور کئی گھنٹوں سے بھوکی غریب حیدرآبادی خاتون پروین بیگم کو کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ایک اندھیری رات میں اس کا مقدر کہاں لے جائے گا کیونکہ وہ چوٹ کے بعد مبینہ طور پر کام کی زیادتی سے کام کے مقام  سے بھاگ گئی تھی

اپنے ہی سائے سے ڈرنے والی  پروین بیگم کو سفر کے دوران لاکھوں خوفناک خیالات آرہے  تھے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر کچھ غلط ہو جاتا ہے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

اجنبی ملک میں اس غریب عورت کا نہ کوئی رشتہ دار تھا  اور نہ ہی کوئی دوست، وہ اللہ سے دعائیں مانگتی ہوئی اکیلی تاریکی میں نکل پڑی۔  اس دوران اسے ایک برمی ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی گاڑی میں جدہ میں موجود ہندوستانی قونصل خانہ پہنچایا اور اسے بتایا کہ یہ آپ کی عمارت ہے جسے آپ یہاں رھ  سکتی ہیں۔

عمارت کا سائن بورڈ پڑھنے سے قاصر، ناخواندہ خاتون نے ہندوستانی ترنگا دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔اس طرح 52 سالہ پروین بیگم کسی طرح جدہ میں ہندوستانی قونصل خانہ پہنچ گئی جو حیدرآباد  واپس پہنچنے کا پہلا قدم تھا۔

قونصلیٹ میں اندر داخل ہونے کے بعد پروین بیگم نے اپنی  پریشانی بیان کی اور اسے بھارت واپس بھیجنے کی التجا کی، خون بہہ جانے سے زخمی ہونے والی خاتون کو قونصل خانے کے اہلکاروں نے ڈسپنسری منتقل کیا جہاں اس کا علاج کیا گیا۔

تین بچوں کی ماں، اس نے سعودی عرب میں ایک ہاسپٹل کی دیکھ بھال کرنے والی فرم نے  کلینر کے طور پر کام کرنے کا انتخاب کیا تھا  اس نے یہ ملازمت اپنی زندگی کی بقا کے لیے نہیں بلکہ اپنی بیٹی کی شادی کے جہیز کے لئے اختیار کی تھی

اس نے بتایا کہ اس  کی تنخواہ 800 ریال تھی جو گزشتہ ساڑھے تین سال سے باقاعدگی سے ادا نہیں کی گئی، ان کی فرم نے اسے   گھر واپس جانے  کی اجازت دینے کی درخواست پر تنخواہ  روک دی تھی

جدہ میں ایسی بے سہارا ہندوستانی خواتین ورکرس کے رہنے کے لیے کوئی مخصوص پناہ گاہ نہیں ہے قونصل خانے کے لیے پروین کو  پناہ فراہم کرنا مشکل تھا۔ تاہم، حکام نے ایک محفوظ پناہ گاہ کا انتظام کیا اور ایک ماہ سے زائد خوراک فراہم کی۔اور پروین کو جمعہ کو حیدرآباد واپس بھیج دیا۔

اس کا اقامہ ریاض سے جاری کیا گیا تھا، اسے اپنی شکایت کو حل کرنے کے لیے 950 کلومیٹر تک وہاں جانا تھا کیونکہ اسے اس کے آجر نے بلیک لسٹ کیا تھا اور پھر بھارت واپس آنے کے لیے ویزا کینسل کی درخواست کی تھی۔ لیکن اس کو وہاں گئے بغیر ہی جدہ سے ویزا کینسل کروانے میں قونصل خانہ نے مدد کی۔

ایسے معاملات میں، مشتعل ورکرس  کو ہدایت دی گئی  کہ وہ قانون کے دائرہ اختیار میں مقامی حکام سے اپنے مسلہ کو  رجوع کریں، تاہم پروین کے معاملے میں، قونصل جنرل محمد شاہد عالم نے اس  مسئلہ کو سعودی حکام کے سامنے  اٹھایا اور جدہ سے اس کا ویزا منسوخ کرنے پر اصرار کیا۔کیونکہ اکیلی عورت اتنی دور  سفر نہیں کر سکتی تھی ۔ طویل کوششوں کے بعد قونصل خانے نے سعودی حکام سے کامیاب نمائندگی کرتے ہوئے اس جدہ کا اخراج کروا لیا۔ قونصل خانے نے اس کی واپسی کے لیے ٹکٹ بھی فراہم کیا۔

پروین کہتی ہیں کہ جب کبھی مجھے  اپنے ملک کے  قونصل خانہ کے دفتر کو جانا پڑے گا میں وہاں لہرانے والے ترنگے کو سلام کروں گی۔کیونکہ اسی دفتر نے مجھے اذیت، دکھ، درد کی کیفیت سے  باہر نکلنے میں مدد کی ۔

اس نے مزید کہا کہ  "میرے پاس بڑے صاب (قونصل جنرل) اور میڈم (قونصل حمنا مریم) کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ کی کمی ہے اور میں ہر نماز میں ان کے لیے دعا کروں گی۔اس بے سہارا خاتون نے عبدالحمید اور کیرالہ سے تعلق رکھنے والی دیگر خواتین کی بھی تعریف کی جنہوں نے جدہ میں قیام کے دوران اس کی مدد کی۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button