این آر آئی

  مسلم سفارت کاروں کی کمی سعودی میں ہندوستانی سفیر کی تعیناتی میں تاخیر

آئی ایف ایس افسران میں مسلم نمائندگی ایک فیصد سے بھی کم_ آزادی کے بعد سے اب تک صرف 179 ڈائریکٹ آئی اے ایس

عرفان محمد

{اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ: اپنے رب کے نام سے پڑھوجس نے پیدا کیا۔ }

پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلی وحی نازل ہوئی غار حرا میں جبرائیل تشریف لائے اور کہا کہ پڑھو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف و حیرت کے عالم میں جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں مزید دو بار فرشتہ نے کہا کہ پڑھو لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔تب فرشتہ نے ان سے کہا کہ پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے ہمیں پیدا کیا جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ۔ پڑھو تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی وہ علم کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے آج 1400 سال گزرنے کے باوجود یہ وحی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے ہندوستان ہو یا دنیا کے کسی بھی مسلمانوں کی ترقی ان کے عروج اور ان کی کامیابی کی دلیل تعلیم ہے

 

جدہ _ 11 مئئی ( اردولیکس) بیوروکریسی اور پولیس میں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم ہے۔ انڈین سول سروس میں ان کی نمائندگی تقریباً 3 فیصد، فارن سروس میں تقریباً 1 فیصد اور انڈین پولیس سروس میں صرف 4 فیصد ہے۔جب بھی نئی دہلی ،  سعودی عرب میں اعلیٰ سفارت کاروں کی تعیناتی کرتا ہے تو وزارت خارجہ میں مسلم افسران کی عدم دستیابی بار بار ہوتی رہی ہے کیونکہ 800 IFS افسران میں مسلمان افسران بمشکل ایک فیصد  ہیں۔

سعودی عرب میں ہندوستانی سفیر کا عہدہ خالی رہنا  مسلم کمیونٹی میں اعلیٰ عہدیداروں کی کمی کے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے۔ اب تقریباً 3 ماہ ہو گئے ہیں کہ حکومت ہند کی طرف سے ریاض میں کوئی نیا سفیر تعینات نہیں کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اوصاف سعید کا تبادلہ کر کے نئی دہلی میں  تعینات کیا گیا  تب سے ریاض میں سفیر کا عہدہ خالی ہے۔

ہندوستان میں  مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے اور یہ مسلمان مفکرین کے درمیان ہر روز بحث کا موضوع بنتا جا رہا ہے۔قومی سطح پر سچر کمیشن کی رپورٹ اور تلنگانہ کی سطح پر جی سدھیر کمیشن کی رپورٹ نے تعلیمی میدان میں مسلم کمیونٹی کی خراب کارکردگی کو اجاگر کیا ہے ۔مذہبی اور  سماجی  تنظیمیں آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس کی آل انڈیا سروسز جیسی اعلیٰ تعلیم کی تیاری پر زور دے رہی ہیں۔افسوسناک صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت مسلم افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کرنا چاہتی ہے لیکن افسران کو تلاش کرنا آسان نہیں رہا۔

سعودی عرب میں سفیروں اور قونصل جنرلوں کا تبادلہ اور تعیناتی ہندوستانی حکومت کے لئے محدود IFS افسران کی دستیابی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔سعودی عرب میں اعلیٰ سفارتی عہدوں کے انتخاب کے لیے وزارت خارجہ میں بار بار مسلم بحران پیدا ہوتا رہا۔

نہرو سے لے کر مودی دور تک یہ روایت رہی ہے کہ سعودی عرب میں اعلیٰ عہدوں پر صرف مسلمان IFS افسران ہی ہوتے ہیں، تاہم وہاں تعیناتی کے لیے  مسلمان افسران نہیں ہیں، مجبوری میں کچھ جونیئر سطح کے افسران کو سعودی عرب جیسے اہم ملک میں تعینات کر دیا جاتا ہے۔

اوصاف سعید

حیدرآباد کے رہنے والے ڈاکٹر اوصاف سعید جنہوں نے حال ہی میں سعودی عرب میں اپنی میعاد مکمل کی ہے، وزارت میں 1989 بیچ کے مسلم IFS افسر کے واحد سینئر سفارت کار ہیں۔ زیادہ تر NRIs نے انہیں ہند سعودی تعلقات کا ماہر بتایا۔

اپی ایم او کے سابق اہلکار اور تجربہ کار سفارت کار جاوید اشرف، جو اس وقت فرانس میں سفیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور رافیل جیٹ طیاروں کے سودے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں  انور حلیم، اردن میں سفیر، پولینڈ میں نگمہ محمد ملک  سفیر ہیں جو پڑوسی ملک یوکرین میں جنگ کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔ 1991 بیچ کے تین  عہدیدار ڈاکٹر اوصاف سعید کے علاوہ مسلمانوں میں سینئر عہدیدار جاوید اشرف، نگمہ دونوں کا عہدہ پیرس میں ہے اور ان کا  ریاض میں تعیناتی کا امکان نہیں۔ ماضی میں ان کا شمار ایسے سفارت کاروں میں ہوتا تھا جو دنیا کے اس حصے میں کام کرنے کے خواہشمند نہیں تھے۔

تاہم، انور حلیم، جو پہلے جدہ (1999-2002) میں کام کر چکے ہیں، جو عمان میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، کو سعودی عرب کے سفیر کے لیے زیر غور  ہے۔

سیاسی تقرری کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سیاسی تقرری کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔  واجپائی حکومت کے دور میں محمد کمال الدین احمد، سابق ایم پی، جنہوں نے لوک سبھا لڑنے کے لیے پارٹی ٹکٹ سے انکار پر کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی، کو 2003 میں سفیر مقرر کیا گیا تھا۔کانگریس حکومت نے بھی عہدیداروں کی کمی کی وجہ سے سعودی عرب میں اسی طرح کی سیاسی تقرریاں کیں۔

روایتی سفارت کاری سے ہٹتے ہوئے، نریندر مودی حکومت، جو عجیب و غریب اور جرات مندانہ پالیسی فیصلوں کے لیے جانی جاتی ہے، بدلتے ہوئے منظر نامے کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی غیر مسلم IFS سفارت کار کو بھی ریاض بھیج سکتی ہے یا کسی بھی مسلم بھکت کو سیاسی تقرری کے طور پر بھیج سکتی ہے۔

آزادی کے بعد سے اب تک صرف 179 مسلم آئی اے ایس افسران 

1951 سے 2020 کی مدت کے دوران، صرف 179 مسلمان  آئی اے ایس افسران بنے  ، دیگر 232 آئی اے ایس افسران کو سروس کے ذریعے اس عہدے پر ترقی دی گئی۔ جس سے مسلم آئی اے ایس کی تعداد 411 ہوگئی ہے جو ملک بھر  کے  11569 آئی اے ایس افسران میں سے ترقی پا کر ملک میں سرکاری ملازمین کے طور پر تقرر کیے گئے۔ اس طرح، مسلم آئی اے ایس افسران کا فیصد محض 3.54 فیصد ہے، جیسا کہ ہریانہ میں ایک آزاد تحقیقی مرکز کے ذریعہ کئے گئے سروے میں انکشاف ہوا ہے۔

ریاست تلنگانہ میں، صرف دو براہ راست بھرتی شدہ آئی اے ایس افسران ہیں مزمل خان (2017) فی الحال سدی پیٹ  ضلع میں ایڈیشنل کلکٹر اور نرمل میں مشرف فاروقی (2014) ڈسٹرکٹ کلکٹر صرف براہ راست بھرتی کردہ آئی اے ایس افسران ہیں اور دیگر کو ترقی دی گئی ہے۔

ہندوستان میں مسلمانوں کے تعلیمی، سماجی اور اقتصادی حالات پر 2006 کی سچر کمیٹی کی رپورٹ نے بتایا کہ بہت سے سماجی اور اقتصادی پیرامیٹرز میں مسلمان درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے نیچے ہیں۔تاہم، مسلمانوں کا موازنہ ایس سی اور ایس ٹی سے نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ایس سی، ایس ٹی دیہی علاقوں میں رہتے ہیں جہاں تعلیمی سہولیات ناقص ہیں جبکہ  شہری علاقوں میں رہنے والے مسلمان جہاں تعلیم کی بہتر سہولیات موجود ہیں۔

آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس میں مسلمانوں کا حصہ دیگر مذہبی اقلیتوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ بیوروکریسی میں مسلمانوں کی نمائندگی 2006 میں تقریباً تین تا چار فیصد رہی۔

 

1972 سے لے کر اب تک صرف تین مسلم ٹاپر رہے ہیں: 1977 میں جاوید عثمانی، 1987 میں امیر سبحانی اور 2009 میں شاہ فیصل۔

الحمدللہ، خوش کن خبر بھی ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں مسلمانوں نے یو پی ایس سی امتحان میں اچھے رینک حاصل کیے ہیں۔ سال 2016 سے یو پی ایس سی میں کامیاب مسلم امیدواروں کی تعداد بڑھنے لگی  جو  تقریباً 5 فیصد تک پہنچ گئی جو کہ ایک بڑی چھلانگ ہے، کیونکہ اس سے پہلے، یہ صرف 2.5 فیصد کے قریب تھی ۔ 2018 میں یہ شرح 4 فیصد تھی۔ 2016 میں، پہلی بار، 50 مسلم امیدوار انڈین ایڈمنسٹریٹو سروسز میں منتخب ہوئے، اور ان امیدواروں میں سے 10 نے ٹاپ 100 میں جگہ بنائی۔ کمیونٹی سے پچاس امیدوار  2017 میں اور 28 امیدوار  2018 میں منتخب ہوئے ۔ 2012 میں، 2013، 2014 اور 2015 میں بالترتیب 30، 34، 38 اور 36 امیدوار سیول سروس کے لئے منتخب ہوئے۔

2016 میں اطہر عامر دوسرے نمبر پر تھے اور 2019 میں جنید احمد تیسرے نمبر پر تھے۔ 2019 میں، ٹاپ 100 میں صرف ایک مسلمان امیدوار تھا۔ کیرالہ کی صفنا نذرالدین 45 ویں نمبر پر تھیں۔ 2020 میں، اتراکھنڈ کی صدف چودھری نے سول سروسز میں 22 واں رینک حاصل کیا۔اسی سال سعودی عرب کی ایک سابق این آر آئی طالبہ محترمہ صدف چوہدری نے بھی سول میں 63 رینک حاصل کیا

دھینہ دستگیر نے انٹرنیشنل انڈین اسکول دمام (IISD) میں تعلیم حاصل کی۔ دھینہ کنگ فہد یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز، سعودی عرب میں شعبہ فزکس کے لیکچرر  دستگیر کی بیٹی ہیں۔

مسلم لڑکیوں کی سول سروسز میں نمایندگی

حمنہ مریم اور عائشہ خان

کچھ مسلم لڑکیاں جو گزشتہ چند سالوں میں سول سروسز میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہیں۔

حمنہ مریم، جن کا تعلق کیرالہ سے ہے لیکن حیدرآباد کی بہو نے 2017 میں آئی اے ایس میں 28 واں رینک حاصل کیا اس نے IFS کا انتخاب کیا۔ فرانس میں کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد وہ جدہ میں تعینات ہو گئیں۔حمنہ مریم نوجوان آئی اے ایس افسر مزمل خان کی اہلیہ ہیں، جو سابق آئی پی ایس افسر اے کے خان کے بیٹے ہیں۔ صدف چوہدری نے سول سروسز میں 22 واں رینک حاصل کیا؛ اس نے بھی آئی اے ایس کے بجائے آئی ایف ایس کو ترجیح دی۔

پولینڈ میں سفیر کے طور پر، نگما ملک ، ہندوستانی حکومت کے لیے یورپ میں یوکرین جنگ کے بحران کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم شخصیت رہی ہیں۔

1985 بیچ کے IFS آفیسر سید اکبر الدین، جو حیدرآبادی باشندے ہیں، ملک کے ممتاز ترین IFS میں سے ایک ہیں۔ سروس سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ اس وقت ایک معروف یونیورسٹی میں وزٹنگ پروفیسر ہیں۔

جب ملک میں آئی اے ایس کی بات آتی ہے تو وہاں بہت کم مسلم خواتین نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کو غیر معمولی سطح پر پیش کیا۔ ان میں سے ایک کیرالہ کی ڈاکٹر عدیلہ عبداللہ (2012) ہیں۔انہیں کیرالہ میں وایناڈ کا ضلع کلکٹر بنایا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وائناڈ کے موجودہ ایم پی راہول گاندھی نے ریاستی حکومت سے ان کی تقرری کی درخواست کی تھی۔ان کی قیادت میں، وائناڈ ضلع نے CoVID – 19 وبائی امراض کے خلاف سخت لڑائی میں انتہائی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

ریاست تلنگانہ میں، عائشہ مسرت خانم، آئی اے ایس میں ترقی پانے والی عہدیدار ہیں جنھوں نے ضلع کلکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ عائشہ مسرت خانم تعلیم کے شعبے میں لڑکیوں کی ترقی کی ایک بہترین مثال ہے

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button