منفرد لب و لہجے کا شاعر : کامران غنی صبا

(22 نومبر یوم پیدائش کی مناسبت سے)

سلمی صنم، بنگلور

نئی نسل کے متحرک اور فعال شاعر ، ناقد اور بےباک صحافی کامران غنی صبا 22 نومبر 1989 کو علمی و تاریخی شہر عظیم آباد، پٹنہ، بہار میں پیدا ہوئے ۔ان کا اصل نام کامران غنی ہے اور قلمی نام کامران غنی صبا ہے۔صبا تخلص ہے۔وہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مجاہد آزادی سید شاہ عثمان غنی کے پر پوتے ہیں۔ ان کےوالد ڈاکٹر ریحان غنی کا شمار بہار کے معروف اور بے باک صحافیوں میں ہوتا ہے. ان کی صحافتی خدمات تقریباً چار دہائیوں پر محیط ہیں. اپنے اصولوں پر سختی سے کاربند رہنے کے لیے جانے جاتے ہیں. سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر اپنی زندگی کو صحافت کے لیے وقف کر چکے ہیں. فی الحال روزنامہ پندار، پٹنہ اور دوردرشن پٹنہ سے وابستگی ہے.

کامران غنی نے اپنے نانا محترم پروفیسر حکیم سید شاہ علیم الدین بلخی فردوسی ندوی رحمتہ اللہ علیہ سجادہ نشیں خانقاہ بلخیہ فردوسیہ فتوحہ کی سرپرستی اور نگرانی میں اردو، عربی، فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی. اس کے بعد جےکے اکیڈمی پٹنہ سے اسکولنگ شروع کی. الحرا پبلک اسکول، پٹنہ مسلم ہائی اسکول، نیر پور بوائز ہائی اسکول اور سلاؤ ہائی اسکول نالندہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد. میٹریکولیشن کا امتحان سلاؤ ہائی اسکول نالندہ سے پاس کیا. پٹنہ کالج سے بی ایے، جواہرلال نہرو یونیورسٹی دہلی سے ایم ایے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی ایڈ کیا۔پھر پٹنہ یونیورسٹی سے پروفیسر جاوید حیات کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کرنے لگے جو ابھی جاری ہے۔اور اس وقت شعبہ اردو نتیشور کالج مظفرپور میں اسٹنٹ پروفیسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں

شاعری کی ابتدا انہوں نے 2007 میں کی. پہلی غزل روزنامہ فاروقی تنظیم پٹنہ میں شائع ہوئی جس کا ایک شعر ہے۔

سنا تھا نقش کف پا پہ چلنا پڑتا ہے

بجز جبیں کے رہ عشق میں نشاں نہ ملا۔

ابتداء میں اپنے چھوٹے ماموں جان سید نصر الدین بلخی سے شاعری پر اصلاح لی بعد میں ماہر عروض محمد یعقوب آسی صاحب مرحوم ٹکسیلا نے انہیں شرف تلمذ بخشا.ان کا کلام برصغیر کے موقر رسالوں میں شائع ہوتا رہا ہے

اب تک ان کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں

۱”۔پیام صبا۔”۔شعری مجموعہ 2017

۲۔”منصور خوشتر نئ صبح کا استعارہ” 2019

اب تک انہیں کئی انعامات و اعزازت سے نوازا جا چکا ہے جیسے

۱۔اردو نیٹ جاپان کی طرف سے سال 2013 کا بہترین قلم کار

۲ ۔عوامی نفاذ کمیٹی، پٹنہ کا ایوارڈ

۳ روزنامہ تاریخ انٹرنیشنل فرانس کی جانب سے مصطفوی ایوارڈ

۴ المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے ادبی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ

۵ اکبر رضا جمشید ایوارڈ

بہت کم عمری میں ہی انہوں نے کافی شہرت پائی ہے بہت سے اہل قلم نے ان کی شاعری کو سراہا ہے۔ ڈاکٹر مقصود الہی شیخ ،

بریڈ فورڈ، برطانیہ سے

لکھتے ہیں

"کامران غنی صبا کی نظم "مجھے آزاد ہونا ہے” پڑھی۔مجھے تیسرا حصہ پسند آیا۔ بڑی گہرائی ہے ، جوگی رنگ جھلک رہا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ترک دنیا کی خواہش تو ہے مگر یاسیت نہیں اور نہ ہی قنوطیت دکھائی دیتی ہے۔ جہاں اگلی سطور میں بے نامی اور انکساری کا جذبہ ابھر کر سامنے آتا ہے، لگتا ہے دنیا سے کنارہ کشی کی خواہش ہے پر نہیں ہے۔ یہی اس کا حسن ہے، سندرتا اور دل کو چھوتی خوبصورت اچھائی ہے۔ کہنے کو کہا جا رہا ہے کہ یہ جگ تیاگ دینے کو جی چاہتا ہے مگراس کا درس نہیں دیا جا رہا بلکہ بے غرض (Selfless) ہونے اور اس میں بھی جھوٹی نمائش کی نیم فطری جبلت سے چھٹکارے کی جہد ہے ،سارے عالم میں چھائی حسن و رعنائی اور اس کی نمائش سے بے نیازی ہے ۔ عارفانہ تڑپ ہے ، تمنا ہے۔شاعر کتنا جھک کر اونچا اٹھتا ہے وہی اس نظم کا کمال ہے۔ یوں مرکزی خیال امر ہو جاتا ہے۔

( ڈاکٹر مقصود الٰہی شیخ، بریڈفورڈ، برطانیہ)

مشہور افسانہ نگار مرحوم مشرف عالم ذوق ان کی شاعری پر یوں رقم طراز ہیں

"کامران کی شاعری انسانی نفسیات کی شاعری ہے۔ وہ معمولی کو غیر معمولی اور غیر معمولی کو معمولی بنانے کا ہنر جانتا ہے۔ کربِ احساس کی شدت کامران کی شاعری کا اختصاص ہے، یہ شدت جتنی تیز ہوگی اس کی شاعری اتنی ہی کامیاب اور پائدار ہوگی”۔

ڈاکٹر عبد الرافع ( صدر شعبہ اردو، ملت کالج ، دربھنگہ ) لکھتے ہیں

"نئی نسل کے متحرک و فعال شاعر و ناقد اور بے باک صحافی کامران غنی کی ’’کامرانی و غنائیت‘‘ پیام صبا میں مضمر ہے۔’پیام صبا‘ کی باد صبا سے ہر خاص و عام قاری مشام جاں کو معطر اور قلب و ذہن کو مطہر کر کے یک گونہ سکون و طمانیت حاصل کرے گا۔ بظاہر یہ مختصر سا مجموعہ ہے لیکن قلب و جگر کو پارہ کرنے اور نظر کو خیرہ کرنے کے لیے ضخیم کلیات کے مترادف ہے۔ ’پیام صبا‘ نے اپنے دامن میں فلسفہ تصوف، حیات و ممات، بے ثباتی دنیا، تہذیب و اخلاق اور عصر حاضر کے گوناگوں موضوعات و مسائل کو سمیٹ رکھا ہے۔ کامرانؔ نے جس خوش اسلوبی ،پاکیزگیٔ زبان اور نرالے انداز بیان کے ذریعے موضوعات و مضامین کی پیش کش کا نیا ڈھب اپنایا ہے اِن سے اُن کے انفراد اختصاص کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ مختصر و مترنم بحر اور انوکھے قوافی کا فنکارانہ استعمال اور علامات و استعارات اور لفظیات کو تراشنے کے ہنر نے ایک بیش قیمتی خزینہ بنا دیا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ ’ پیام صبا‘ کہنہ مشق استاد شعرا اور نسل نو کے مابین ایک پل صراط کا کام کرے گا۔ قارئین ، مداحین اور شعری اصناف سے شغف رکھنے والے ناقدین کے لیے یکساں طور پر ایک انمول تحفہ ثابت ہوگا۔”

مغربی بنگال کے معروف شاعر اور استاد ان کی شاعری کے حوالے یوں رقم طراز ہیں

"ناقدین ادب نے بھلے ہی شاعری کو روایتی، کلاسیکی، ترقی پسند، جدید اور مابعد جدید جیسے خانوں میں تقسیم کررکھا ہو مگر میری نظر میں ہر زمانے میں شاعری کی دو ہی بڑی قسمیں رہی ہیں۔۔۔۔اچھی شاعری اور خراب شاعری۔کامران غنی صبا کی شاعری بلا شبہ اچھی شاعری کے زمرے میں آتی ہے۔ان کے یہاں آجکل کے جدید شاعروں کی طرح الفاظ کا گورکھ دھندہ نہیں ہے۔وہ اپنی فکر اور اسلوب سے قارئین کو متاثر کرتے ہیں۔انکی نظمیں اور غزلیں دونوں یکساں طور پر میرے دعوے کی تصدیق کرتی ہیں۔توجہ سے پڑھئے تو سہی”۔

ڈاکٹر بدر محمدی۔ویشالی سے لکھتے ہیں

” صباؔ کی غزلیں اچھی ہیں یا نظمیں یہ فیصلہ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ اس کے شاعرانہ مقام کے تعین میں ابھی دیر ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ ’’پیام صبا‘‘ اس کے خوش آئند مستقبل کا پتہ دے رہا ہے۔ اس کی شاعری عشق کی بھیک ہے۔ بھیک ایسی ہے تو پھر تحفہ کیسا ہوگا۔ اس سے مطلب نہیں کہ شاعر کا خاندانی پس منظر کیا ہے وہ کس میدان میں سرگرم ہے بلکہ اس سے سروکار ہے کہ کوئی شاعر ہے تو شاعری کی دنیا میں کتنا کامیاب ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ صباؔ کی شاعری میں جادو ہے۔ نشہ ہے، رخ معتبر کا رنگ ہے۔ عصری آگہی، متنوع خیالات ، روایت پسندی، جدت طرازی، بالیدہ شعور نے کامران کی شاعری کو توجہ طلب بنایا ہے۔ میں تازہ کار مگر پختہ شاعر، حساس اور با ہنر فنکار کو ’’پیام صبا‘‘ جیسے شاندار آغاز پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے اس سے مسلسل پرواز کی امید ہے کہ اس کے سامنے ابھی اور بھی آسماں ہیں۔”

ڈاکٹر زر نگار یاسمین( صدر شعبہ اردو ، مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی ، پٹنہ ) ان کی شاعری کے حوالے سے لکھتی ہیں

"صباؔ کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے بے حد کم عمری میں ہی دنیا کی محرومیوں، ریاکاریوں اور منافقتوں کو نہ صرف سمجھ لیا ہے بلکہ اسے ایک مخصوص طرزِ اظہار کے ساتھ پیش کرنے کا پختہ ارادہ بھی کر لیا ہے۔ ’’مجھے آزاد ہونا ہے‘‘ کی بازگشت ان کی غزلوں کے اشعار میں بھی بار بار سنائی دیتی ہے۔ جس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ یہ نقطۂ نظر اب ان کے تخلیقی رویے کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ اسی فکری شائستگی کے ساتھ اپنا ادبی سفر طے کرتے رہیں۔”

پاکستان سے حسیب اعجاز عاشر ان کی شخصیت کے حوالے سے یوں رقم فراز ہیں

"درس و تدریس ہو،رپورٹنگ ہو، کالم نویسی ہو، تبصرہ نگاری ہو،تجزیہ کاری ہو یا پھر شاعری ہی کیوں نہ ہو کامران غنی صباؔ نے ہر میدان میںجدیدیت اور انفرادیت کے زیرِاثر رہتے ہوئے بھرپور اورقابلِ رشک دادِ آفرین حاصل کی ہے۔میں کوئی تبصرہ نگار، نقاد یا کوئی تجزیہ کار تو نہیں اورشاعری کا شغف تو مجھے بس سننے یا پڑھنے کاہی ہے مگر کامران کی شاعری کے حوالے سے اتنا ضرورکہوں گا کہ ان کی شاعری میں گہری بصیرت، بالغ نظری،بے ساختگی ،حسن خیال کی معنی آفرینی، احساس کی نزاکت، معنویت، شفافیت، حلاوت، بلند آہنگی ، مسائل حیات کے احاطے، امیدوں کے روشن چراغ، درد مندی، انتہائی وسعت،رنج و مسرت کے علاوہ فلسفیانہ موشگافیاںاور صوفیانہ روموز و نکات بھی ملتے ہیں۔”

شاعری ان کے نزدیک عشق ہے….. عبادت ہے…. جس طرح عشق اور عبادت کا تعلق روح سے اسی طرح شاعری کا تعلق روح سے. ریاکاری اور دکھاوے کے ساتھ عشق اور عبادت کی تکمیل نا ممکن ہے اسی طرح شاعری صرف احساسات کو الفاظ دینے کا نام نہیں ہے بلکہ روحانی جذبات کو الفاظ کا پیکر عطا کرنے کا ہنر شاعری ہے.

انہیں کلاسیکی شعرا میں حافظ، رومی، غالب، اقبال اور اصغر گونڈوی.اور.دور حاضر کے شعرا میں عرفان صدیقی کا کلام پسند ہے

شاعری کے علاوہ وہ ایک بے باک صحافی بھی ہیں اپنی صحافتی

زندگی کا باضابطہ آغاز انہوں نے روزنامہ” پندار” پٹنہ کے اسپورٹس ایڈیشن سے 2006 میں کیا. اس کے بعد اردو نیٹ جاپان، ماہنامہ کائنات کولکاتا، سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز، سہ ماہی تحقیق دربھنگہ، ماہنامہ نیا کھلونا، کولکاتا، تعمیر افکار سمستی پور وغیرہ سے وہ وابستہ.رہے ہیں

 

پیش خدمت ہے ان کا نمونہ کلام

 

——-غزل——-

کامران غنی صبا

 

 

حریمِ دل کہ مقدس ہے ماورائے جنوں

اسی کے فیض سے روشن ہے یہ فضائے جنوں

 

خدا کے واسطے عقل و خرد کی بات نہ کر

قسم خدا کی ابھی میں ہوں مبتلائے جنوں

 

بس اتنی بات پہ آئینہ پاش پاش ہوا

وہ پوچھ بیٹھے جو مفہومِ انتہائے جنوں

 

مرا عقیدہ ذرا مختلف ہے لوگوں سے

یہ کائنات بنائی گئی برائے جنوں

 

سمجھ لو شہرِ خرد سے نکل کے آیا ہے

جو شہرِ عشق میں ڈھونڈے کوئی سرائے جنوں

 

قسم خدا کی میں بیعت کروں گا قدموں پر

مرے جنوں کو جو مل جائیں اولیائے جنوں

 

کسی کا کچھ بھی بھروسہ نہیں، ذرا بھی نہیں

صبا کا کوئی نہیں ہے، نہیں، سوائے جنوں

 

____________________________

 

——-غزل——–

کامران غنی صبا

 

میرے چاروں سمت آتا ہے نظر پانی کا رقص

ہائے نادانی کہ دریا میں ہے طغیانی کا رقص

 

اِک یہی صورت بچی ہے اپنی آنکھیں نوچ لوں

جس طرف بھی دیکھیے ہے دشمنِ جانی کا رقص

 

پارسائی پردئہ نخوت سے تکتی رہ گئی

رات بھر ہوتا رہا اشکِ پشیمانی کا رقص

 

میرے اوپر کفر کا فتوی لگا دیں شیخ جی

دیکھ لیں گر میرے اندر کی مسلمانی کا رقص

 

شاعری کیا ہے کوئی مجھ سے اگر پوچھے کہوں

صفحئہ قرطاس پر اپنی پریشانی کا رقص

 

کون سی ایسی بشارت مل گئی تجھ کو صبا

تیری آنکھوں میں سدا رہتا ہے تابانی کا رقص

 

____________________________

 

 

————غزل

(نذر احمد فراز)

کامران غنی صبا

 

کچھ درد اگر ہم کو مسلسل نہیں ہوتے

ہم عشق میں ائے دوست مکمل نہیں ہوتے

 

کچھ خواب مرے ہجر کی سولی پہ چڑھے ہیں

وہ خواب مگر آنکھ سے اوجھل نہیں ہوتے

 

تمثیل میں آنکھوں کی طرف دیکھ لو میری

برسات بہت ہوتی ہے بادل نہیں ہوتے

 

عشاق کے دل مملکتِ عشق کے در ہیں

ویران تو ہوتے ہیں مقفل نہیں ہوتے

 

معلوم اگر ہوتا کہ تم بھی ہو مسیحا

نادان نہ تھے ایسے کہ گھائل نہیں ہوتے

 

صد شکر خدا تیرا کہ ہم ایسے سخنور

شاعر جو نہیں ہوتے تو پاگل نہیں ہوتے؟

 

___________________________

 

خاموشی، لامکاں اور میں

کامران غنی صبا

 

خموشی کیا ہے؟

اک احساس ہے

اک راز ہے

درد نہاں ہے

تشنگئ شوق ہے

اک گوہرِ نایافت کو پانے کی حسرت ہے

خموشی کچھ نہیں کہتی

مگر کہنے پہ آ جائے

تو پھر چپ بھی نہیں رہتی

خموشی آگ ہے

جس میں جھلس کر

ذات کی تکمیل ہوتی ہے

خموشی اک سمندر ہے

بہت گہرا

خموشی کے سمندر میں

اگر طوفان آ جائے

تو سمجھو پھر قیامت ہے

خموشی "رازِ کن” ہے

عرشِ اعظم ہے مکاں اس کا

اگر یہ فاش ہو جائے

تو پتھر چیخ اٹھتا ہے

خموشی وقت کی دہلیز پر

ڈالا ہوا حکمت کا پردہ ہے

کہ جس کے بعد تاحد نظر ہے

لامکاں اور "میں”