نیشنل

ناگالینڈ اسمبلی میں افسپا کے خلاف پاس کردہ قرارداد کا پاپولر فرنٹ نے کیا خیرمقدم

نئی دہلی: پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیئرمین او ایم اے سلام نے ایک بیان میں ناگالینڈ قانون ساز اسمبلی کے ذریعہ متفقہ طور پر پاس کردہ ایک قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں شمال مشرقی ہند سے مسلح افواج خصوصی اختیارات قانون (افسپا)-1958 کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تنظیم نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ظالمانہ قانون کو پورے ملک سے ختم کرے۔

افسپا کے تحت مسلح افواج کو حاصل خصوصی اختیارات شمال مشرقی ہند اور کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں کا بنیادی محرک رہے ہیں۔ اس قانون کی دفعات سکیورٹی فورسز کو نامزد علاقوں میں کسی بھی شخص پر شک کی بنیاد پر گولی چلانے، بغیر وارنٹ کے لوگوں کو گرفتار کرنے اور گھروں وغیرہ کی تلاشی لینے کا اختیار دیتی ہیں۔ اس قانون کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال کیا گیا ہے اور اس کے سبب گذشتہ پانچ برسوں میں نہ جانے کتنے ہی شہریوں کو من مانے طریقے سے قتل اور گرفتار کیا گیا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں ناگالینڈ میں مسلح افواج کے ہاتھوں 14 شہریوں کی ہلاکت اس بات کی زندہ مثال ہے کہ کس طرح اس قانون نے شمال مشرقی خطے کے بے قصور عوام کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔

اس سے قبل سال 2005 میں بھی جسٹس جیون ریڈی کمیٹی اس قانون کی منسوخی کی سفارش کر چکی ہے۔ کمیٹی نے کہا تھا کہ افسپا ”ایک قانون کے طور پر نفرت اور ظلم کی علامت اور من مانی کا ذریعہ ہے“۔

 

پاپولر فرنٹ ناگالینڈ اسمبلی کے ذریعہ افسپا کی منسوخی کے لئے پاس کردہ قرارداد کا خیرمقدم کرتی ہے اور مرکزی حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ریاستی اسمبلی کے ذریعہ متفقہ طور پر کئے گئے اس مطالبے کو عمل میں لائے اور شمال مشرقی خطے اور جموں و کشمیر سے اس قانون کو مکمل طور سے ختم کرے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button