نیشنل

خفیہ طور پر بیوی کے فون کی ریکارڈنگ غلط: عدالت

ئی دہلی: طلاق کے ایک معاملہ میں شوہرکی جانب سے بیوی کی سیل فون ریکارڈنگ کو ثبوت کے طورپرپیش کرنے کی اجازت دینے سے انکارکرتے ہوئےپنجاب۔ ہریانہ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ خفیہ طورپر بیوی کی فون پر ہونے والی بات چیت کو ریکارڈ کرنا غلط ہے۔ عدالت نے کہا کہ بیوی کی اطلاع کے بغیراس طرح کی حرکت کرنا اس کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

طلاق کے ایک معاملہ میں پنجاب۔ہریانہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس لیسا گل نے یہ ریمارکس کئے۔ بھٹنڈا کی فیملی کورٹ نے شوہر کی جانب سے بیوی کی سیل فون پرہوئی بات چیت سے متعلق سی ڈی داخل کرنے کی اجازت دی تھی، جس پر خاتون نے ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے کہا کہ اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کی گئی بات چیت کو ثبوت نہ سمجھا جائے۔

خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایاکہ انڈین ایویڈنس ایکٹ کی دفعہ 65 کے تحت سیل فون میں ریکارڈ کی گئی بات چیت کو ثبوت نہیں سمجھا جاناچاہئے۔ عدالت نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے فیملی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کو مسترد کردیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button