ہر سال آتا ہے اور گذرجاتا ہے 6 دسمبر

تحریر: جاوید اختر بھارتی
یوں تو بہت زمانے سے آتا ہے دسمبر کا مہینہ اور گذر جاتا ہے دسمبر کا مہینہ اور جب سے عیسوی سال کے ماہ میں دسمبر کو ترتیب دیا گیا ہے تب سے ہر سال دسمبر کے مہینے میں 6 تاریخ بھی آتی ہے یعنی 6 دسمبر کا دن آتا تھا اور آتا ہے اور آتا رہے گا مگر 1992 میں جب دسمبر کا مہینہ آیا تو ہمارے وطن عزیز کی فضا کچھ ایسی تبدیل ہونا شروع ہوئی کہ 6 دسمبر کو ساڑھے چار سو سال پرانی ایک مسجد کو ڈھا دیا گیا جسے بابری مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے جو اجودھیا میں واقع تھی اس دن پورے ملک کو فرقہ پرستی کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں کتنی بستیاں جل گئیں، کتنی گودیاں اجڑ گئیں پورے ملک میں عجیب و غریب ماحول تھا لوگ سہمے ہوئے تھے دوست دوست سے ڈر رہا تھا، پڑوسی پڑوسی سے ڈر رہا تھا مختلف مقامات پر فسادات بھی پھوٹ پڑے سفر کرنا انتہائی دشوار کن تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ ایک سجدہ گاہ کو فرقہ پرستوں نے شہید کردیا تب سے اب تک 29 سال کا عرصہ گزر گیا گیا لیکن جب بھی 6 دسمبر آتا ہے تو بابری مسجد کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور جو مناظر تھے وہ آنکھوں میں گھومنے لگتے ہیں –
بابری مسجد کا مسلہ 1949 پیدا ہوا کانگریس کے دور حکومت میں پیدا ہوا جواہر لال نہرو وزیراعظم تھے اگر وہ چاہے ہوتے تو مسلہ حل ہوگیا ہوتا لیکن انہوں نے اس معاملے کو سلجھانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور مسجد میں تالا لگا دیا گیا، نماز پڑھنے پر پابندی عائد کردی گئی اس طرح مسلمانوں کی دلآزاری کی گئی اور مسلمان بابری مسجد میں نماز ادا کرنے سے محروم ہو گئے –
 1986 میں راجیو گاندھی کے دور حکومت میں بابری مسجد کا تالا کھول کر ہندوؤں کو پوجا پاٹ کرنے کی اجازت دیدی گئی یعنی نانا نے کے دور حکومت میں تالا لگا کر مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے محروم کیا گیا اور نواسے کے دور حکومت میں تالا کھول کر ہندوؤں کو پوجا پاٹ کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی پھر 1992 کا زمانہ آیا تب بھی مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت تھی،، نرسمہا راؤ وزیراعظم تھے اور کلیان سنگھ وزیر اعلی تھے،، نرسمہا راؤ نے بار بار مسلمانوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بابری مسجد کی ہر حال میں حفاظت کی جائے گی کلیان سنگھ نے عدالت سے بھی وعدہ کیا تھا کہ بابری مسجد کی ایک اینٹ کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا لیکن نہ نرسمہا راؤ نے وعدہ نبھایا اور نہ کلیان سنگھ نے وعدہ نبھایا یہاں تک کہ 6 دسمبر کو شام تک بابری مسجد کی ایک ایک اینٹ کھود کھود کر پھینک دی گئی اس کے بعد کلیان سنگھ نے وزیر اعلی کے عہدے سے یہ کہہ کر استعفیٰ دیا کہ مجھے فخر ہے کہ میری حکومت میں بابری مسجد کو ڈھایا گیا،، یہ تھی بابری مسجد کی کہانی ،، حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی سے کہیں زیادہ کانگریس بابری مسجد کی شہادت کی ذمہ دار ہے ، کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ وشواس گھات کیا ہے
اب آئیے بابری مسجد کا مقدمہ چلتا رہا ساتھ ہی بابری مسجد کے نام پر کمیٹیاں تشکیل پاتی رہیں اور بہت سارے لوگ بابری مسجد کے نام پر سیاست کی روٹیاں سینکتے رہے ، کتنے لوگوں کا سیاسی قد اونچا ہوگیا، کتنے لوگوں کو بنگلے مل گئے، کتنے لوگوں کو لال بتی والی کار مل گئی، بابری مسجد کے نام پر خوب تقاریر ہوئیں، کتنی نظمیں پڑھی گئیں الغرض بابری مسجد کے نام پر بہت سے لوگوں کو بہت کچھ مل گیا مگر افسوس صد افسوس بابری مسجد نہ رہی-
ہر سال 6 دسمبر آتا ہے چہرے اداس ہو جاتے ہیں حکومت کی ناانصافی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور زخم ہرا ہوجاتاہے جب بابری مسجد کی اینٹیں اکھاڑی جارہی تھیں پھاوڑا چلایا جارہا تھا تو مجھے یقین ہے کہ بابری مسجد یہی پکارتی رہی ہوگی کہ دیگر مساجد کو ویران نہ چھوڑنا بلکہ سجدوں سے آباد رکھنا جیسے جمعہ ادا کرتے ہو ویسے ہی نماز پنجگانہ ادا کرنا تاکہ کسی فرقہ پرست کی نگاہ تمہاری مسجد کی طرف نہ اٹھے ،، ہر سال 6 دسمبر آتا ہے اور گذرجاتا ہے اور یہ پیغام دے جاتا ہے کہ اے مسلمانوں مجھے بھول نہ جانا کہ میرے ساتھ کتنی بڑی ناانصافی ہوئی ہے میرے قاتلوں کو بھی بری کردیا گیا اور مجھے یاد رکھنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ مجھے صرف مسجد کا نام دو مجھے الگ الگ نام اور عرفیت نہ دو احناف، اہلحدیث، اہلسنت والجماعت ان ناموں کو تم بھلے ہی مدارس اور خانقاہوں میں چسپاں کرو لیکن مجھے ان ناموں کی ضرورت نہیں میں مسجد ہوں اسلام کا قلعہ ہوں، تبلیغ اسلام کا مرکز ہوں اور میں خطبۂ جمعہ کی شکل میں اسلامی ذرائع ابلاغ ہوں یہی میری پہچان ہے اور یہی میرا پیغام ہے اس پیغام کو عام کرو اور اس پیغام پر عمل پیرا ہوجاؤ تا کہ کل میدان محشر میں میں تمہارے حق میں گواہی دے سکوں اور تم رب ذوالجلال کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکو-