قاضی و محدث حضرت زید العمّیؒ کی اہل علم کو کچھ قیمتی نصیحتیں

از:محمد ندیم الدین قاسمی
مدرس ادارہ اشرف العلوم، حیدراباد۔
امام دارمیؒ نے اپنی کتاب “سنن دارمی ” میں اپنی سند کے ساتھ حضرت زید العمّیؒ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بعض فقہاء کرام کو یہ نصیحت فرمائی کہ
۱۔ اے صاحبان علم! اپنے علم پر عمل کرو اور ضرورت سے زائد جو مال ہو وہ اللہ کی راہ میں دے دو؛لیکن ضرورت سے زائد بات مت کرو، بات وہی کرو جو تمہارے رب کے پاس نفع دے۔
۲۔اے صاحبان علم! کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کے عمل میں تم طاقتور ہو اور اپنے عمل میں کمزور۔

۳۔اے صاحبان علم! اکابر علماء کی تعظیم کرو، ان کی مجالس میں بیٹھو ، کان لگا کر ان کی باتیں سنو، اور ان کے تنازعات اور جھگڑوں سے الگ رہو۔
۴۔اے صاحبان علم! علماء کی تعظیم ان کے علم کی وجہ سے کرو اور جہلاء کو ان کے جہل کی وجہ سے چھوٹا سمجھو؛ مگر جہلاء کو اپنے سے دور مت ہٹاؤ؛ بلکہ ان کو قریب کرو اور ان کو تعلیم دو۔
۵۔اے صاحبان علم! کسی مجلس میں کوئی بات اس وقت تک مت بیان کرو جب تک کہ اسے اچھی طرح سمجھ نہ لو،اور کسی کی بات کا جواب بھی اس وقت تک مت دو جب تک کہ تم خود اس کو نہ سمجھ لو۔
۶۔اے صاحبان علم! اللہ تعالیٰ کے بارے میں مغرور نہ ہونا کہ اس سے غافل ہو جاؤ اور اس کے حکم کی تعمیل چھوڑ دو۔ اور لوگوں کے بارے میں بھی مغرور نہ ہونا کہ تم ان کی خواہشات کا اتباع کرنے لگ جاؤ ،اور لوگوں سے بھی بچتے رہو، کہیں وہ تمہیں فتنے میں مبتلا نہ کر دیں۔
۷۔ اے صاحبان علم! جس طرح دن کی روشنی سورج کے بغیر مکمل نہیں ہوتی اسی طرح حکمت بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بغیر کامل نہیں ہوتی۔
۸۔ اے صاحبان علم! جب اللہ تعالیٰ تمہیں عبادت پر ابھارتا ہے اور اس کی ترغیب دیتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ تمہیں عزت و کرامت سے نوازنا چاہتا ہے؛لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کی عزت و کرامت کو چھوڑ کر ذلت کی طرف مت جاؤ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ جاؤ۔(دارمی ص۳۶۶ج ۱)
*اہل علم کی چند مفید باتیں :*
۱۔امام اوزاعی بیان کرتے ہیں:جو عالم جتنی اچھی رائے کا مالک ہوگا لوگوں میں مقبولیت اسی کے مطابق ہوگی؛بشرطے کہ رائے میں آوارگی نہ ہو؛بلکہ کتاب وسنت کے رنگ میں رنگی ہوئی ہو۔(سنن دارمی ۱/۲۳۲)
۲۔حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ بندہ علم سے معروف اور عمل سے عالم بنتا ہے۔(۱/۲۱۰)
۳۔ حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک عالم کے لئے ان تین چیزوں سے بری ہونا بہت ضروری ہے؛۱۔ بڑوں سے حسد،۲۔کم تروں کو حقیر جاننا،۳۔علم کے ذریعہ دنیا طلب کرنا۔(دارمی ۱/۲۲۳)
۴۔غرائب کا متلاشی ہمیشہ دین میں غلط باتوں کو رواج دینے کا باعث بنتا ہے؛لہذا لوگوں کی رہنمائی معروف باتوں ہی کے ذریعہ کرنی چاہئے،( آج کل کے واعظین لوگوں پر دھاک بٹھانے کے لئے نئی نئی باتوں کو ایجاد کرتے ہیں)۔(۱/۱۸۱)