اسپشل اسٹوریانٹر نیشنل

بی جے پی قائدین کی شان رسالت صلعم میں گستاخی اورزہرافشانی پرنامورانگریزی اخبارات کے اداریے

نئی دہلی (اردولیکس ڈیسک)پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بی جے پی قائدین نوپورشرما اورنوین جندال کی جانب سے کی گئی گستاخی کی بین القوامی برادری مذمت کررہی ہے۔ گستاخانہ تبصرے پرمسلم ممالک میں برہمی کی لہر پائی جاتی ہے۔ شدید تنقیدوں اورمسلم مالک کے شدید دباو کے بعد پارٹی کی جانب سے اپنے دونوں قائدین کو معطل کردیا گیا ہے تاہم بی جے پی کی نفرت کی سیاست پر ملک کے سرکردہانگریزی اخبارات اپنے اداریوں میں اس پررد عمل ظاہرکیا ہے۔
انگریزی کے معروف اخبارٹائمز آف انڈیا نے اپنے اداریہ میں لکھا مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کرنا، نظریاتی اور سیاسی طور پر

تنقید کرنے والے پروفیسرس، یونیورسٹی کے طلبہ پر غداری کے مقدمات درج کرنا، حلال، نماز، مسجد-مندرکے مسئلہ کے علاوہ نفرت کو ہوا دینے والے ایسے واقعات نے دائیں بازو کے گروپوں کو وحشیانہ بات کرنے کا موقع فراہم کیا ہے،ان واقعات کی بی جے پی کو آنے والے انتخابات میں قیمت چکانی پڑے گی۔

انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ ہندوستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے۔ بی جے پی کو ان کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم جمہوریت میں اقتدار میں آنے والی پارٹی کو تمام مذاہب کو برابر کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی لیڈروں کی طرف سے مذہب کی توہین کرنے والے نفرت انگیز ریمارکس ملک کے لیے اچھے نہیں ہیں۔ وزیر اعظم مودی اور پارٹی کے سربراہ نڈا لاتعلقی کا مظاہرہ کر رہے ہیں باوجود اس کے کہ ان کے اپنے لیڈران نفرت کو بھڑکانے والا رویہ اختیارکئے ہوئے ہیں۔
دکن ہیرالڈ نے لکھا بی جے پی دوسرے مذاہب کی توہین کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ اگر او آئی سی نے قابل اعتراض ریمارکس کی مذمت میں بیان جاری کیا تو مودی سرکارنے اس پربھی تنقید کی۔ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے خلاف ریمارکس نے بی جے پی کو بڑا سبق سکھایا ہے۔

ملک کے مشہورروزنامہ دی ہندو نے لکھا یہ واضح ہے کہ بی جے پی لیڈروں کے ریمارکس نفرت انگیز تھے۔ بی جے پی حکومت نے تنقیدوں کے بعد انہیں معطل کر دیا۔ نفرت انگیزبیان بازی کے خلاف یہ ایک مضبوط قدم ہے تاہم ریمارکس کرنے والے لیڈروں کے خلاف کارروائی بہت دیر سے شروع ہوئی۔ کیوں؟ –

دی ٹیلی گراف نے لکھا بی جے پی کو امید ہے کہ نفرت انگیز تقریر کرنے والوں کو معطل کرنے کے بعد یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ تاہم یہ سچ نہیں ہے. مغربی ایشیائی ممالک جنہوں نے طویل عرصے سے ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے ہیں اب شاید تعلقات ایسے نہ رہیں۔ بی جے پی اپنے ہی لیڈروں کے ذریعہ تعصب کا زہر اُگل رہی ہے۔ مودی کی طرف سے لایا گیا ”میک ان انڈیا” کا نعرہ ”ہیٹ ان انڈیا” بن گیا ہے۔

دی ٹریبون نے اپنے اداریہ میں لکھا کہ وزیر اعظم مودی نے حال ہی میں اقتدارکے 8 سال کی تکمیل کے موقع پرایک شاندار بیان دیا ہے کہ ‘ہندوستانیوں کو کبھی شرمندہ نہیں کیا گیا’۔ لیکن پارٹی قائدین کی وجہہ سے بین القوامی سطح پرقوم کو شرمسارہونے جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، زندگی گزارنے کیلئے خلیجی ممالک جانے والوں کو وہاں معذرت خواہی کرنی پڑی اوریہ بی جے پی کی وجہہ سے ہوا ہے۔ (اردولیکس ڈیسک)

متعلقہ خبریں

Back to top button