اسپشل اسٹوری

مجھے فخر ہے میرا بیٹا شہید ہوا ہے،اسلام زندہ باد کا نعرہ لگانے پرگولی مارنے کا حق کس نے دیا؟ جاں بحق مدثرکی والدہ کا پولیس سے سوال

نئی دہلی: پیغمبراسلام کی شان میں گستاخی کے خلاف جمعہ کو رانچی میں احتجاج کے دوران دوافراد کی موت ہو گئی، ان میں سے ایک لڑکا تھا جس کا نام مدثر تھا۔ مدثر عرف کیفی جو رانچی میں گولی لگنے سے زخمی ہو گیا تھا، علاج کے دوران ہفتہ کو زخموں سے جانبرنہ ہوسکا، مدثر کا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا جس میں وہ اسلام زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے نظرآرہا تھا۔

اسلام زندہ باد کا نعرہ لگانے کے بعد مدثر کو گولی مار دی گئی اور ایک دن بعد اس کی موت ہوگئی۔ مدثر کی موت کے بعد اس کے خاندان کا برا حال ہے، خاندان میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ بیٹے کو کھونے کے غم میں ماں کے رونے کی آوازوں سے لوگوں کے دل کانپ اٹھے۔ مدثر اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا جس کی عمر 16 سال تھی۔اپنے اکلوتے بیٹے کو کھونے والی ماں نےحکومت، پولیس، انتظامیہ اور نظام سے کئی سوالات کئے ہیں۔ انھوں نے کہا ” مجھے میرے بیٹے کی موت کا غم نہیں وہ شہید ہوا ہے، اسلام کیلئے میرا بیٹا شہید ہوا، اس ماں کو فخر ہے وہ شہید ہوا ہے۔ جواں سال بیٹے کو کھودینے والی غمزدہ ماں نے کہا اسلام زندہ آباد تھا، ہے اوررہے گا”۔

انھوں نے سوال کیا کہ اسلام زندہ آباد کا نعرہ لگانے پرگولی مارنے کا حق پولیس کو کس نے دیا؟ ایک قومی چینل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ میرا اکلوتا بیٹا تھا، اسے مار ڈالا، بے بس ماں نے سوال کیا کہ کیا اسلام زندہ باد کے نعرے لگانا غلط ہے؟ کیا یہ جرم ہے؟

 

متعلقہ خبریں

Back to top button