اسپشل اسٹوری

آواز کی دنیا کا جادوگر محمد رفیع ۔ یوم وفات کےموقع پرخصوصی مضمون

حیدرآباد 31 جولائی (اردولیکس ڈیسک) محمد رفیع کا نام تعارف کا محتاج نہیں ہے، برصغیر کے عظیم گلوکارمحمد رفیع کے مختلف زبانوں میں گائے ہوئے سینکڑوں نغمہ آج بھی مقبول ہیں۔ شیام سندر کی موسیقی کی ہدایت میں محمد رفیع نے اپنا پہلا گیت سونيے نی ہیریے نی زینت بیگم کے ساتھ ایک پنجابی فلم گل بلوچ كے لیے گایا تھا۔ اس کے بعد سال 1944 میں نوشاد کی موسیقی میں انہوں نے اپنا پلا ہندی گیت ہندوستان کے ہم ہیں فلم کیلئے گیت گایا تھا۔ سال 1949 میں سہانی رات ڈھل چکی ہے کے ذریعہ ان کی کامیابی کے دروازے کھل گئے۔ انھو نے دلیپ کمار، دیو آنند، شمی کپور، راجندر کمار، ششی کپور،راجکمار جیسے کئی اداکاروں کیلئے ہزاروں گیت گائے۔

محمد رفیع نے پنجاب کے کوٹلہ سلطان سنگھ موضع میں 24 دسمبر 1924 کو ایک متوسط مسلم گھرانے میں آنکھیں کھولی، محمد رفیع ایک فقیر کے نغموں کو سنا کرتے تھے جس سے ان کے دل میں موسیقی کے تئیں لگاؤ پیدا ہوا، محمد رفیع کے بڑے بھائی حمید نے محمد رفیع کے دل میں موسیقی کے اس رجحان پہچان لیا تھا اوران کی حوصلہ افزائی کی۔محمد رفیع کو اپنے کریئر میں چھ بار فلم فیئر ایوارڈ سے اور 1965 میں پدمشری ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ ان کے انتقال کے 20 برس بعد سال 2000 میں انہیں بہترین سنگرآف میلینیم کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

محمد رفیع کی خاص خوبی یہ تھی کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی اپنے گائے گیتوں پررائلٹی کا مطالبہ نہیں کیا ان کا ماننا تحا کہ ایک مرتبہ جب فلمساز کی جانب سے گیت گانے کیلئے رقم ادا کردی گئی تھی تو رائلیی کا کوئی مطلب ہیں نہیں ہے۔ اپنے طویل کریئر میں تقریباً 700 فلموں کے لیے 26000 گیت گاتےہوئے ہمارے دلوں میں اپنی یادوں کے انمٹ نقوش چھوڑنے والا آواز کی دنیا کا بے تاج بادشادہ 31 جولائی 1980 کو ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جدا ہوگیا۔ (اردولیکس ڈیسک)

متعلقہ خبریں

Back to top button