رضیہ سلطان بہار کی پہلی خاتون مسلم ڈی ایس پی

پٹنہ _( اردولیکس)رضیہ سلطان ، بہار میں ڈی ایس پی منتخب ہونے والی پہلی مسلمان خاتون بن گئیں۔رضیہ سلطان بہار کے گوپال گنج ضلع کے ہٹوا گاؤں کی رہنے والی ہیں ، انہیں بہار پولیس فورس میں 64 ویں بہار پبلک سروس کمیشن امتحانات (بی پی ایس سی) میں بطور ڈی ایس پی منتخب کیا گیا  ڈی ایس پیز کے عہدوں پر منتخب 40 میں سے رضیہ سلطان واحد مسلم لڑکی ہے ۔ اس وقت وہ محکمہ برقی میں اسسٹنٹ انجینئر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔

رضیہ سلطان کا آبائی ضلع گوپال گنج ہے مگر انھوں نے جھارکھنڈ کے بوکارو میں تعلیم مکمل کی۔ ان  کے والد ، محمد اسلم انصاری ، بوکارو اسٹیل پلانٹ میں بطور اسٹینوگرافر کام کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے انھوں نے بوکارو میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ جودھ پور میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ٹیک مکمل کیا۔

رضیہ سلطان نے کہا کہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کم عمری ہی سے لکھنا ان کا خواب تھا اور ڈی ایس پی بننے کا ان کا خواب پورا ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جب سے انہوں نے 2017 میں  محکمہ برقی میں اسسٹنٹ انجینئر کی ذمہ داری سنبھالی ہے ، تب سے وہ بی پی ایس سی امتحانات کی تیاری کر رہی  ہیں۔ پولیس افسر کی حیثیت سے کام کرنے کا مواقع ملنے پر مجھے بہت خوشی ہے۔ ایسی بہت ساری مثالیں ہیں جہاں لوگوں کو خاص طور پر خواتین کو مناسب انصاف نہیں ملتا ہے۔ خواتین اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے بارے میں پولیس میں شکایت کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خواتین کو آگے آنا چاہیے