تلنگانہ کی اس خاتون رکن اسمبلی کی عوامی خدمت کو سلام

حیدرآباد _ عوامی منتخب نمائندے چاہیے وہ ارکان اسمبلی ہوں یا ارکان پارلیمنٹ عام طور پر ان کے تعلق سے عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور عیش کی زندگی گزارتے ہیں اور اگر عوام کو مشکل حالات میں مدد کرنی بھی ہوتو یہ عوامی نمائندے اپنے حامیوں یا پارٹی کارکنوں کے تعاون سے عوام کی مدد کرتے ہیں

لیکن تلنگانہ میں کانگریس کی ایک ایسی خاتون رکن اسمبلی ہے جو روز غریب عوام کے درمیان رہتے ہوئے ان کی مدد کرتی ہے ریاست کے ملگ اسمبلی حلقہ سے نمائندگی کرنے والی خاتون رکن اسمبلی کا نام ڈی انوسویا عرف سیتا اکا ہے بتایا جاتا ہے کہ ملگ اسمبلی حلقہ میں کئی قبائلی افراد جنگل میں چھوٹے چھوٹے قصبے میں رہتے ہیں لاک ڈاؤن کے دوران رکن اسمبلی سیتا اکا جنگل میں رہنے والے غریب قبائلی خاندانوں کی ہر وقت مدد کرتی ہیں قبائلی علاقوں تک پہنچنے کے لئے کوئی سڑک نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ پیدل ہی کئی کلومیٹر کا مسافت طے کرتی ہوئی ان کی مدد کرتی ہے

رکن اسمبلی نے چہارشنبہ کے روز  وہ ملگ ضلع میں تھڈوئی منڈل کے لنگالا پنچایت کے ایک راپٹلہ تانڈہ کو چار کلو میٹر پیدل سفر کرتے ہوئے پہنچی ۔ راپٹلہ تک سڑک کی  رسائی نہ ہونے کی وجہ سے سیتا اکا کپڑوں سے بھرے ہوئے  سامان اپنے سر پر اٹھا کر لے کر وہاں پہنچی اور  16 خاندانوں کے بچوں کو کپڑے ، کمبل ، چاول اور سبزیاں تقسیم کیں ۔ اور قبائلی افراد کے ایک تہوار میں بھی شرکت کی ۔ رکن اسمبلی سیتا اکا سابق میں ممنوعہ تنظیم نکسلائیٹ سے وابستہ تھی تقریبا 11 سال تک تنظیم میں کام کرنے کے بعد سماج کے اصل دھارے میں شامل ہوگئی اور کانگریس سے وابستہ ہوتے ہوئے اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کرتے ہوئے رکن اسمبلی بن گئیں۔