اب بھیک کی رقم بھی ڈیجیٹل طریقہ سے مانگی جا رہی ہے !

حیدرآباد _ کورونا وائرس کی  وبا شروع ہونے کے بعد سے ملک بھر میں ڈیجیٹل پے منٹ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔عوام 10 روپے کی چیز کی خریدی پر بھی پے ٹی ایم، گوگل پے، فون پے اور اسکانر کے ذریعہ رقم ادا کررہے ہیں بازار میں کرانہ دکان سے لے کر، ہوٹل، چھوٹی بنڈی پر  بھی پے ٹی ایم کا اسکانر یا گوگل پے نمبر دیکھا جا رہا ہے یہاں تک کے فٹ پاتھ پر چپل سینے والے موچی بھی  اب ڈیجیٹل طریقہ سے رقم حاصل کررہے ہیں

مزہ کی بات یہ ہے کہ اب تلنگانہ اور آندھراپردیش کے بعض علاقوں میں ڈیجیٹل طریقہ سے  بھیک مانگی جا رہی ہے  دو تلگو ریاستوں میں دسہرہ ،دیوالی اور اگادی تہواروں کے موقع پر بعض بھیک مانگنے والے بیل کو کپڑے پہنا کر گھر گھر بھیک مانگتے پھرتے ہیں اس مرتبہ دسہرہ اور دیوالی کے موقع پر دونوں ریاستوں میں بعض مقامات پر بھیک مانگنے والے بیل کی پیشانی پر پے  ٹی ایم کا اسکانر لگا کر بھیک مانگی اور عوام بھی بیل کی پیشانی پر لگے اس اسکانر پر کیو آر کوڈ کے ذریعے اپنے فون سے بھیک کی رقم ادا کی۔اس طرح کے کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے ہیں اور مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رامن نے اس بیل کو پے ٹی ایم کے لگے اسکانر کا ویڈیو سوشیل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا اور مہیندرا گروپ کے چیئرمین آنند مہیندرا نے بھی اسی طرح کا ایک ویڈیو پوسٹ کیا۔