حیدرآباد کے اس آٹو ڈرائیور نے ایسا کیا کام کیا ،جس پر کمشنر پولیس نے اس کو اپنا ہیرو قرار دیا

حیدرآباد _ حیدرآباد کے کمشنر پولیس انجنی کمار نے ایک آٹو ڈرائیور سید  زاہد کو اپنے دفتر میں طلب کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کو ایک مومنٹو پیش کیا۔جس نے چہارشنبہ کی صبح علاقہ  عابدس  میں جی پی او کے قریب ایک 6 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی سے بچا لیا ۔  تفصیلات کے مطابق حافظ پیٹ کی ایک خاتون اپنی دو بیٹیوں (چھ سال اور دو سال) کے ساتھ ایم ایم ٹی ایس ٹرین میں روزآنہ نامپلی یوسفین درگاہ پر بھیک مانگنے آتی ہے اور رات کو واپس ہوجاتی ہے۔ خاتون، جس نے منگل کو یوسفین درگا پر بھیک مانگنے کے بعد دونوں لڑکیوں کے ساتھ جی پی او میں اپنی بہن سے ملنے گئی۔ واپسی میں  تاخیر کے باعث وہاں رک گئی۔  وہ اس رات اپنی بہن کے ساتھ جی پی او کے  فٹ پاتھ پر دوبوں لڑکیوں کے ساتھ سو گئی۔

 

چہارشنبہ کی صبح تقریباً 2 بجے افضل گنج علاقہ کا ایک نوجوان خاتون کی محو خواب 6 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کی کوشش کررہا تھا قریب میں آٹو میں موجود  سید زاہد نے اس نوجوان کے ارادہ سے واقف ہوگیا۔آٹو ڈرائیور سید زاہد نے محو خواب لڑکیوں کی ماں اور اس کی بہن  کو جگایا۔اور ان تمام نے اس نوجوان کی اس حرکت پر جھگڑا شروع کردیئے۔

 

اس دوران عابڈس پولیس اسٹیشن کی گشتی پولیس نے دیکھا کہ چھوٹو ان کے ساتھ جھگڑ رہا ہے۔پولیس کو زاہد نے تمام تفصیلات بیان کی۔اصل معاملہ اس وقت سامنے آیا جب انہیں پولیس اسٹیشن لے جا کر پوچھ گچھ کی گئی۔ چھوٹو پر پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا ۔ کمشنر پولیس نے سید  زاہد کو اپنے دفتر میں طلب کیا اور ذمہ شہری کا رول ادا کرنے پر اس کا شکریہ ادا کیا اور مومنٹو پیش کیا ۔اور کہا کہ آج کے دن کے لئے سید زاہد ان کا ہیرو کا قرار دیا۔