فیس بک کی نظر میں بجرنگ دل خطرناک دہشت گرد تنظیم _ بھارت کی ہندوتوا تنظیموں کے خلاف نیویارک ٹائمز کا سنسنی خیز انکشاف

حیدرآباد _ مشہور سوشل میڈیا سائٹ فیس بک نے چند سال قبل بھارت کی  ہندوتوا تنظیم بجرنگ دل کو خطرناک دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی  فیس بک کے تحقیقی مقالے میں یہ بات سامنے آئی تھی جس کا امریکہ کے مشہور اخبار نیو یارک ٹائمز ک اور  ایسوسی ایٹس پریس نے انکشاف کیا ہے بھارت پر فیس بک کی کیس اسٹڈی رپورٹ کے تعلق سے نیویارک ٹائمز میں ہفتہ کے روز ایک مضمون شائع ہوا۔
اخبار نے بھارت میں جھوٹی  خبریں ، غلط معلومات ، اشتعال انگیز پوسٹس ،  پرتشدد واقعات پر مبنی تحقیقی مقالوں کو فیس بک پیجز کا نام دیا ۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹس میں کہا گیا کہ فیس بک بجرنگ دل کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر دیکھتا ہے۔ فیس بک بجرنگ دل کو خطرناک دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی تیاری کر رہا تھا  تاہم ، یہ انکشاف ہوا کہ ابھی تک اس سمت میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ حالانکہ بجرنگ دل نے فیس بک کو مسلم مخالف پوسٹس کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا ہے۔ بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی سے وابستہ  بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ اس تنظیم اور اس کے لیڈروں اور کارکنوں کی پوسٹس کو حذف کرنا فیس بک کے لیے ایک بڑا کام بن گیا ہے۔ تحقیقی مقالوں میں واضح کیا گیا ہے کہ بجرنگ دل ہندوؤں کو گروپوں میں شامل کرنے، ان کی پوسٹوں کو زیادہ سے زیادہ وائرل کرنے اور پوسٹوں کو شیئر کرنے جیسی حرکتیں کر رہا ہے۔
ایک اور مشہور اخبار وال سٹریٹ جرنل نے یہ مضمون گزشتہ سال دسمبر میں شائع کیا تھا۔ پچھلے سال 16 دسمبر کو ہندوستان کی پارلیمانی کمیٹی نے بھی فیس بک کے سامنے اس معاملہ کو اٹھایا تھا اور دریافت کیا تھا کہ بجرنگ دل کے پوسٹوں پر نظر نہ ڈالنے کا ڈرامہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ جس پر  فیس بک اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ بجرنگ دل نے ہماری پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔
 فیس بک  کے تحقیقی مقالوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوتوا تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) بھی اسی طرح مذہبی تشدد پر اکسانے والی پوسٹ جاری کر رہی ہے۔ چونکہ آر ایس ایس ہندوستان میں برسراقتدار بی جے پی کی  ایک ساتھی ہے،اس کے خلاف بھی فیس بک مناسب کارروائی کرنے میں پیچھے ہے۔
 فیس بک نے کی تحقیقات میں پتہ چلا کہ تقریبا  تمام سیاسی جماعتوں کے لوگ انتخابات کے دوران غلط معلومات اور اشتعال انگیز پوسٹیں پھیلا رہے ہیں ..
بھارت 34 کروڑ صارفین کے ساتھ فیس بک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ یہاں جعلی خبروں اور  اشتعال انگیز تقاریر کو روکنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں 22 سرکاری زبانیں ہیں۔ فیس بک کے پاس بہت کم ملازمین ہیں جو اپنی اپنی زبانوں میں پوسٹوں کے جعلی ، پرتشدد اور اشتعال انگیز زمروں کی شناخت میں ماہر ہیں۔
2019 کے انتخابات کے دوران بھارت میں ایف بی ہیڈ کوارٹر کے ماہرین کی تعیناتی اور تھرڈ پارٹی کے تعاون کے باوجود جعلی اور اشتعال انگیز پوسٹوں کو ہٹانا ایک مشکل کام بن گیا تھا ۔ فیس بک کے پاس ہندی اور بنگالی کے  ماہرین کی تعداد کافی  ہے ، لیکن دوسری زبانوں میں اسی طرح کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ فیس بک اس سال جنوری سے کچھ خودکار ٹولز تیار کر رہا ہے۔ جس سے قابل اعتراض اور تشدد پیدا کرنے والے مواد کو ہٹا دیا جائے۔اس کے لئے آرٹیفیشل انٹلی جنس AI کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے