اسپشل اسٹوری

مہاراشٹر کے اس گاؤں میں اذان کی بنیاد پر ہی ہندو بھائی انجام دیتے ہیں روز مرہ کے کام کاج _ مسجد سے لاؤڈ اسپیکر نہ ہٹانے گرام پنچایت میں منظور کی قرارداد

حیدرآباد _ 2 مئی ( اردولیکس ڈیسک)مساجد میں اذان اور لاؤڈ اسپیکر کے جھگڑے کے درمیان مہاراشٹر کے ایک ہندو اکثریتی گاؤں نے متفقہ طور پر گاؤں کی واحد مسجد سے لاؤڈ اسپیکر نہ ہٹانے کی قرارداد منظور کی ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اذان روزمرہ کے معمولات کا حصہ ہے اور گاؤں میں کوئی بھی اس سے پریشان نہیں ہوتا تھا۔

دھسلا-پیروادی مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقے میں جالنا ضلع میں  گرام پنچایت ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 2500 ہے جس میں 600 کے قریب مسلم خاندان شامل ہیں۔ 24 اپریل کو، یوم پنچایتی راج کے موقع پر ایک گرام سبھا کا انعقاد کیا گیا جہاں گاؤں والوں نے متفقہ طور پر مسجد سے لاؤڈ اسپیکر نہ ہٹانے کی قرارداد منظور کی۔

گاوں کے سرپنچ رام پاٹل نے کہا کہ گاؤں والے تمام ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں تقریباً 600 مسلم خاندان ہیں۔ ہم برسوں سے امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہ رہے ہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ملک بھر میں کوئی بھی سیاست کھیلی جا رہی ہے، ہم نے فیصلہ کیا کہ اس سے ہمارے تعلقات اور روایات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اذان گاؤں والوں کے لیے زندگی کا ایک طریقہ بن گیا ہے جس کی بنیاد پر ہر کوئی اپنے معمول کے کام کرتا رہتا ہے۔ دیہاتی صبح کی اذان فجر  کے بعد کام شروع کر دیتے ہیں اور ظہر کی اذان  کے بعد 1.30 بجے دوپہر کے کھانے کا وقفہ لیتے ہیں۔ شام کی اذان عصر شام 5 بجے۔ دن کے کام کے اختتام کا اشارہ دیتا ہے،  شام 7 بجے مغرب کی اذان رات کے کھانے کا وقت بتاتا ہے اور پھر آخری اذان عشا  کے بعد 8.30 بجے ہر کوئی سو جاتا ہے،

گاوں کی واحد مسجد کے مولوی ظاہر بیگ مرزا نے گرام سبھا کو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ کسی بھی اعتراض کی صورت میں لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو کم کیا جائے گا۔سرپنچ پاٹل نے کہا کہ گاؤں والے ہمیشہ ہر گھر میں ہونے والی تقریبات میں ذات پات یا مذہب سے قطع نظر شرکت کرتے ہیں۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی کوشش میں، گاؤں والوں نے ایک مسلم نوجوان سے مہادیو مندر میں ہفتہ بھر چلنے والے مذہبی تہواروں کے دوران بھگوا جھنڈا لہرانے کو کہا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button