اسپشل اسٹوری

واٹس ایپ ویڈیو کال کے ذریعہ ہائی کورٹ کے جج نے کیس کی سماعت کی اور فیصلہ سنایا_ ملک کی تاریخ میں پہلا واقعہ

حیدرآباد _ 17 مئی ( اردولیکس ڈیسک) ملک کے  ہائی کورٹس کی تاریخ میں پہلی بار کسی جج نے واٹس ایپ کے ذریعے کیس کی سماعت کی۔ اس کیس  کی سماعت گزشتہ اتوار کو واٹس ایپ ویڈیو کال کے ذریعہ منعقد ہوئی اور جج نے مقدمہ کی سماعت کے بعد فیصلہ بھی سنایا ۔

تفصیلات کے مطابق مدراس ہائی کورٹ کے جج جی آر سوامی ناتھن اتوار کو ایک شادی میں شرکت کے لیے نگر کوئل گئے ہوئے تھے۔اس دوران ایک ایمرجنسی کیس ان سے رجوع ہوا۔جس پر وہ کیس کی تحقیقات واٹس ایپ کے ذریعہ کی ۔ یہ کیس   تمل ناڈو کے دھرما پوری ضلع میں ابھیشتا وردراج سوامی مندر  کی رتھ یاترا نکالنے کی اجازت دینے سے متعلق تھا ہر سال آدھی رات کو مندر سے  نکالی جانے والی رتھ یاترا کو پولیس اور ضلع انتظامیہ نے اس وجہ سے اجازت نہیں دی کہ گزشتہ سال رتھ یاترا کے دوران  رتھ برقی کے تاروں سے ٹکرا گیا تھا اور آگ لگ گئی تھی اس حادثہ میں ایک بھکت کی ہلاک اور 17 دیگر بھکت زخمی ہوگئے تھے

اس  مندر میں پیر کو  رتھ یاترا کا انعقاد ہونا تھا تاہم ۔ کچھ دن پہلے پولیس نے رتھ یاترا کو روکنے کے احکامات جاری کیے تھے

پولیس کے احکامات کے خلاف مندر کے موروثی ٹرسٹی پی آر سری نواسن نے اس معاملے کو عدالت سے رجوع کیا۔ انہوں نے کیس  کی فوری سماعت کی درخواست کرتے ہوئے عدالت سے کہا کہ اگر رتھ یاترا کا اہتمام نہیں کیا گیا تو علاقے ميں کوئی بھی آفات آسکتی ہے

ہائی کورٹ کے جسٹس جی آر سوامی ناتھن، جو شادی میں موجود تھے، نے واٹس ایپ پر اس کیس کی سماعت کی۔

جسٹس جی آر سوامی ناتھن نے ناگرکوئل میں دلائل کی سماعت کی۔ جبکہ درخواست گزار راگھواچاری اور سالیسٹر جنرل ،درخواست گزار کے وکیل نے مختلف جگہوں سے واٹس ایپ پر دلائل سنائے ۔ دلائل سننے کے بعد جسٹس سوامی ناتھن نے اتفاق کیا کہ پولیس رتھ یاترا کو روکنے کا حکم جاری نہیں کر سکتی ۔جج نے اپنے فیصلے میں رتھ یاترا نکالنے  کرنے کی اجازت دی ۔اور کہا کہ عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ رتھ یاترا کے دوران متعلقہ حکام کو اردگرد کے علاقوں میں برقی کی سربراہی منقطع کرنے کے احکامات جاری کیے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button